site
stats
صحت

ذیابیطس کا عالمی دن: سندھ میں ذیابیطس کے مریضوں میں تشویشناک اضافہ

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج ذیابیطس سے آگاہی کا دن منایا جارہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت کے مطابق پاکستان کی آبادی کا 26 فیصد حصہ ذیابیطس یا شوگر کے مرض کا شکار ہے جبکہ صرف صوبہ سندھ کی 30 فیصد سے زائد آبادی ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے۔

ذیابیطس کا عالمی دن منانے کا مقصد اس مرض سے پیدا شدہ پیچیدگیوں، علامات اور اس سے بچاؤ کے متعلق آگاہی فراہم کرنا ہے۔

ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان اس وقت ذیابیطس کے مریضوں کا ساتواں بڑا ملک ہے جبکہ سنہ 2030 تک یہ چوتھا بڑا ملک بن جائے گا جو ایک تشویش ناک بات ہے۔

اس مرض کا شکار افراد امراض قلب اور فالج کا آسان ہدف ہوتے ہیں جو ان کی موت کا باعث بنتے ہیں۔


ذیابیطس کی علامات اور وجوہات

ذیابیطس کی کئی علامات ہیں جن میں پیشاب کا بار بار آنا، وزن کا گھٹنا، بار بار بھوک لگنا، پاؤں میں جلن اور سن ہونا شامل ہیں۔ ذیابیطس دل، خون کی نالیوں، گردوں، آنکھوں، اعصاب اور دیگر اعضا کو متاثر کر سکتا ہے۔

اس موذی مرض کی اہم وجہ غیر متحرک طرز زندگی اور غیر صحت مند غذائی عادات ہیں۔

مزید پڑھیں: فوری توجہ کی متقاضی ذیابیطس کی 8 علامات

ایک تحقیق کے مطابق ایسے افراد جن میں ذیابیطس کا مرض ابتدائی مراحل میں ہو وہ اگر اپنے معمول سے صرف 20 منٹ زیادہ روزانہ پیدل چلیں تو ان میں ہارٹ اٹیک کا خطرہ بہت حد تک کم ہو سکتا ہے جبکہ دیگر امراض قلب میں بھی 8 فیصد تک کمی واقع ہوسکتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ذیابیطس کو اگر ابتدائی مراحل میں ہی تشخیص کرلیا جائے تو اس کے علاج اور روک تھام میں آسانی ہوسکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے کہ ذیابیطس کی ابتدائی علامات کو جانا جائے۔

علاوہ ازیں مائیں اپنے بچوں کو اپنا دودھ پلا کر انہیں مستقبل میں ذیابیطس سے محفوظ رکھ سکتی ہیں، اسکول کے اوقات کار میں جسمانی سرگرمیوں کا دورانیہ دگنا، جبکہ اسکول کی حدود میں سافٹ ڈرنکس اور جنک فوڈ پر پابندی بھی نونہالوں کو مستقبل میں ذیابیطس سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔


سندھ میں ذیابیطس میں خطرناک اضافہ

نیشنل ڈائیبٹیز سروے 2017 کے مطابق صوبہ سندھ کی 30 فیصد سے زائد آبادی ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہے۔ صوبہ خیبر پختونخواہ میں بھی ذیابیطس کے مریضوں کی تعداد 13 فیصد ہے۔

سروے کے مطابق پورے پاکستان میں ذیابیطس کے مریضوں کی شرح 26.3 فیصد ہے جبکہ 14.4 فیصد لوگوں کو ذیابیطس کا مرض لاحق ہونے کا خدشہ ہے۔

مذکورہ نیشنل ڈائیبٹک سروے آف پاکستان چاروں صوبوں کے 46 اضلاع اور تحصیلوں میں کیا گیا اور اس میں 10 ہزار 8 سو سے زائد افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔

سروے کے مطابق سندھ میں 20 سال سے زائد عمر کے 30.2 فیصد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا پائے گئے۔ دوسرے نمبر پر پنجاب رہا جس میں 20 سال سے زائد عمر کے 28.8 فی صد افراد ذیابیطس کے مرض میں مبتلا ہیں۔

بلوچستان میں یہ شرح 28.1 فیصد رہی جب کہ خیبر پختونخواہ میں ذیابیطس میں مبتلا افراد کی شرح 12.9 فیصد ریکارڈ کی گئی۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top