site
stats
صحت

کلائمٹ چینج سے پرانی خوفناک بیماریاں لوٹ آنے کا خدشہ

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہمارے بزرگوں کے دور میں بستیوں کی بستیاں موت کے گھاٹ اتارنے والی بیماریاں جیسے چیچک اور طاعون لوٹ کر آسکتی ہیں اور اس کی وجہ موسمیاتی تغیرات یعنی کلائمٹ چینج ہوگا۔

انسانوں کی اس زمین پر آمد کے وقت سے یہاں ایسے جاندار بھی موجود ہیں جو کسی کے لیے فائدہ مند ہیں اور کسی کے لیے نقصان دہ۔ ایسے ہی کچھ جاندار وائرس اور بیکٹریا بھی ہیں جن میں سے بہت کم اقسام انسانوں اور جانورں کے لیے فائدہ مند ہے۔

ان جراثیموں کی بڑی تعداد نقصان دہ اور مختلف بیماریاں پیدا کرنے کا سبب بنتی ہے جو بعض اوقات نہایت خطرناک اور جان لیوا بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

مزید پڑھیں: جراثیم طاقتور ہوگئے، پرانی بیماریاں لوٹ آئیں گی

تاہم جیسے جیسے سائنس نے ترقی کی ویسے ویسے کئی امراض پر قابو پالیا گیا اور اب کچھ بیماریاں ایسی ہیں جنہوں نے پرانے دور میں قیامت خیز تباہی مچائی لیکن اب ان کا نام و نشان بھی موجود نہیں۔

البتہ اب ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ موسمیاتی تغیرات (کلائمٹ چینج) کی وجہ سے گرم ہوتا ہوا موسم (گلوبل وارمنگ) اب ان وائرسوں کو دوبارہ سے جگا سکتا ہے اور انہیں فعال کر سکتا ہے۔

انکشاف کیسے ہوا؟

ماہرین پر یہ انکشاف اس وقت ہوا جب گزشتہ برس اگست میں سائبریا کے ایک دور دراز علاقے میں ایک 12 سال بچہ انتھراکس کا شکار ہو کر مرگیا۔

یہ بیماری جانوروں سے لگنے والی چھوت کی بیماری ہے اور اس وقت اس نے مزید 100 افراد کو اپنا شکار بنا کر اسپتال پہنچا دیا۔

ماہرین نے جب اس وبا کے اچانک پھیلاؤ کے عوامل پر تحقیق کی تو انہیں علم ہوا کہ تقریباً 75 سال قبل اس مرض سے متاثر ایک بارہ سنگھا اسی مقام پر ہلاک ہوگیا تھا۔

animal-2

سال گزرتے گئے اور بارہ سنگھے کے مردہ جسم پر منوں برف کی تہہ جمتی گئی، لیکن سنہ 2016 میں جب گرمی کی شدید لہر یعنی ہیٹ ویو نے سائبریا کے برفانی خطے کو متاثر کیا اور برف پگھلنا شروع ہوئی تو برف میں دبے ہوئے اس بارہ سنگھے کی باقیات ظاہر ہوگئیں اور اس میں تاحال موجود بیماری کا وائرس پھر سے فعال ہوگیا۔

اس وائرس نے قریب موجود فراہمی آب کے ذرائع اور گھاس پر اپنا ڈیرا جمایا جس سے وہاں چرنے کے لیے آنے والے 2 ہزار کے قریب بارہ سنگھے بھی اس بیماری کا شکار ہوگئے۔

بعد ازاں یہ مرض انسانوں کو بھی لگنا شروع ہوگیا اور جلد یہ وبا پورے علاقے میں پھیل گئی۔

وائرسوں کا پنڈورا باکس

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہر برس جب موسم گرما شروع ہوتا ہے تو زمین کے مختلف برفانی حصوں پر جمی برف 50 سینٹی میٹر تک پگھلتی ہے تاہم اب جس رفتار سے درجہ حرارت میں اضافہ ہورہا ہے اس سے برف پگھلنے کی رفتار اور مقدار میں غیر معمولی اضافہ ہوگیا ہے۔

مزید پڑھیں: دنیا کے سرد ترین مقام کی برف پگھلنا شروع

تحقیق میں شامل ماہرین کے مطابق یہ عمل مختلف بیماریوں کے وائرسز کا پنڈورا باکس کھولنے کے مترادف ہے کیونکہ وائرس اور جراثیم برف میں دفن ہونے کے بعد لاکھوں سال تک زندہ رہ سکتے ہیں۔

ماہرین نے بتایا کہ 20 ویں صدی کے آغاز میں 10 لاکھ کے قریب بارہ سنگھے انتھراکس کے باعث ہلاک ہوئے تھے۔ یہ زیادہ پرانی بات نہیں لہٰذا قیاس ہے کہ ان کے دفن شدہ اجسام زیادہ گہرائی میں نہیں ہوں گے۔

animal

اس زمانے میں چونکہ ایسے خطرناک امراض کا شکار جانوروں کو بھی دفن کردیا جاتا تھا لہٰذا جب اس وبائی مرض نے برفانی خطے کو متاثر کیا تو لاکھوں جانوروں کو مختلف مقامات پر دفن کیا گیا۔

صرف روس میں 7 ہزار میدانوں میں ایسے جانوروں کو دفن کیا گیا۔

ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ اٹھارویں اور انیسویں صدی کے امراض چیچک اور گلٹی دار طاعون بھی لوٹ کر آسکتے ہیں جنہوں نے ایک زمانے میں پورے پورے شہر کا خاتمہ کردیا تھا۔

سنہ 1890 میں سائبریا میں قیامت خیر چیچک کی لہر نے ملک کی 40 فیصد آبادی کا خاتمہ کردیا تھا۔

ماہرین کے مطابق اگر ان وائرسوں کا پھیلاؤ پھر سے شروع ہوگیا تو یہ پہلے سے زیادہ خطرناک صورتحال کو جنم دے سکتے ہیں کیونکہ میڈیکل سائنس کی ترقی کی بدولت اب انسانی جسم نسبتاً نازک مزاج ہوگیا ہے اور یہ سخت وائرس اور بیماریاں برداشت نہیں کرسکتا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top