site
stats
حیرت انگیز

ٹائی ٹینک جہاز سے لکھا گیا آخری خط لاکھوں ڈالرز میں نیلام

لندن: بیسویں صدی کی ایک عظیم تخلیق بحری جہاز ٹائی ٹینک کا حادثہ جسے جدید دور میں دوران امن پیش آنے والا ہولناک ترین سانحہ یا آفت قرار دیا جاتا ہے، اب بھی لوگوں کے ذہنوں میں تازہ ہے۔ حال ہی میں حادثے میں ہلاک ہونے والے ایک شخص کے پاس سے ملنے والا آخری خط لاکھوں ڈالرز میں نیلام کردیا گیا۔

یہ خط اس حادثے میں بچ جانے والے مذکورہ شخص کے خاندان کے پاس تھا اور اس خط پر پانی کے دھبوں کو موجودگی اس ہولناک حادثے کی یاد ایک بار پھرتازہ کردیتی ہے۔

جہاز کے فرسٹ کلاس حصے میں سفر کرنے والے مسافر الیگزندڑ آسکر ہولورسن نے یہ خط اپنی والدہ کو لکھا تھا۔ خط میں اس نے جہاز کے اندر انتظامات، کھانوں اور موسیقی کی بے انتہا تعریف کی اور لکھا، ’اگر سب کچھ ٹھیک رہا تو ہم بدھ کے روز نیوریاک پہنچ جائیں گے‘۔

یہ خط اس قیامت خیز روز سے ایک دن قبل لکھا گیا جب یہ عظیم بحری جہاز ایک قوی الجثہ برفانی تودے سے ٹکرایا۔

مزید پڑھیں: کیا ٹائی ٹینک واقعی برفانی تودے سے ٹکرایا تھا؟

ہولورسن نامی یہ شخص جہاز میں اپنی اہلیہ میری ایلس کے ساتھ سفر کر رہا تھا جو اس حادثے میں بچ جانے والے خوش قسمت افراد میں سے ایک تھی۔

اب اس خاندان کی جانب سے اس خط کو 16 لاکھ ڈالرز میں نیلام کردیا گیا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ ٹائی ٹینک جہاز کی نیلام ہونے والی باقیات میں سے مہنگی ترین شے ہے۔

اپنے خط میں ہولورسن نے اس وقت کے معروف افراد کا ذکر بھی کیا جو اس سفر میں اس کے ساتھ تھے۔ ایسے ہی ایک امریکی دولت مند جون جیکب ایسٹر کے بارے میں اس نے لکھا، ’وہ بالکل ہماری طرح دکھائی دیتا ہے حالانکہ وہ ایک ارب پتی ہے۔ وہ ہم سب کے ساتھ جہاز کے عرشے پر بھی بیٹھتا ہے‘۔

خط میں حادثے سے ایک روز قبل کی تاریخ اور سال بھی درج ہے۔

یاد رہے کہ سنہ 1912 میں انگلینڈ کے شہر ساؤتھ ہمپٹن سے امریکی شہر نیویارک جانے والے 3 منزلہ عظیم بحری جہاز ٹائی ٹینک کے ایک برفانی تودے سے ٹکرانے کے حادثے میں 15 سو مسافر ہلاک ہوگئے تھے۔

جہاز پر کل ڈھائی ہزار کے قریب افراد سوار تھے جن میں سے زیادہ تر بچوں اور خواتین کو بچا لیا گیا تھا۔ اس حادثے کو بیسویں کا ہولناک ترین حادثہ بھی کہا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top