site
stats
اہم ترین

احتساب عدالت میں نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست منظور

اسلام آباد: سابق وزیر اعظم نواز شریف، ان کی بیٹی مریم صفدر اور داماد کیپٹن صفدر احتساب عدالت میں پیش ہوئے جہاں نواز شریف اور مریم نواز کی جانب سے دائر حاضری سے استثنیٰ کی درخواستیں منظور کرلی گئیں۔

گزشتہ سماعت پر نواز شریف کی تینوں ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواست مسترد کردی گئی اور نواز شریف پر تینوں ریفرنس میں دوبارہ باضابطہ فرد جرم عائد کردی گئی۔

آج کی سماعت میں شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز میں باقاعدہ ٹرائل کا آغاز ہوگیا۔ عدالت نے استغاثہ کے 2 گواہوں کو بھی طلبی کے سمن جاری کر رکھے تھے۔

سب سے پہلے ایون فیلڈ اپارٹمنٹ میں گواہ سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن کی اہلکار سدرہ منصور نے بیان قلمبند کروایا۔ انہوں نے بتایا کہ نیب کو حدیبیہ پیپر ملزکی سنہ 2000 سے 2005 تک کی آڈٹ رپورٹ پیش کیں، ساتھ ہی سدرہ نے ریکارڈ کی دستاویزات بھی عدالت میں پیش کردیں۔

وکلا صفائی خواجہ حارث اور امجد پرویز نے گواہ پر جرح کی اور دستاویزات پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا کہ دستاویزات فوٹو کاپیاں ہیں اصل نہیں، جس پر نیب پراسیکیوٹر نے بیان میں کہا کہ نیب آرڈیننس کے مطابق فوٹو کاپیاں ہی ضروری ہوتی ہیں۔

سدرہ منصور کے بیان اور جرح کے بعد العزیزیہ اسٹیل ملز ریفرنس میں گواہ جہانگیر احمد نے بیان ریکارڈ کروایا۔


نواز شریف اور مریم نواز کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست

آج سماعت میں نواز شریف کی جانب سے 20 نومبر سے ایک ہفتے کی حاضری سے استثنیٰ کی درخواست بھی دائر کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا کہ اہلیہ کے علاج کے لیے لندن جانا ہے، غیر موجودگی میں ان کے نمائندے ظافر خان پیش ہوں گے۔

دوسری جانب مریم نواز نے بھی نمائندہ مقرر کرنے اور حاضری سے استثنیٰ کی درخواست دائر کردی۔

نیب کی جانب سے استثنیٰ کی مخالفت کی گئی تاہم عدالت نے حاضری سے استثنیٰ کی دونوں درخواستوں کو منظور کرتے ہوئے نواز شریف کو 7 روز جبکہ مریم نواز کو 1 ماہ کا استثنیٰ دے دیا۔

کیس کی مزید سماعت 22 نومبر تک ملتوی کردی۔


کب کیا ہوا؟

یاد رہے کہ 19 اکتوبر کو احتساب عدالت نے ایون فیلڈ ریفرنس میں نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ اسی روز عزیزیہ اسٹیل ریفرنس میں بھی نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

بعد ازاں عدالت کا وقت ختم ہونے کے باعث اس سے اگلے روز 20 اکتوبر کو فلیگ شپ انویسٹمنٹ ریفرنس میں بھی نامزد ملزم نواز شریف پر فرد جرم عائد کردی گئی۔

تاہم نواز شریف نے احتساب عدالت کی جانب سے تین ریفرنسز یکجا کرنے کی درخواستیں مسترد کرنے کا فیصلہ اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا تھا جسے سماعت کے لیے منظور کرلیا گیا تھا۔

گزشتہ سماعت پر نواز شریف کے وکلا کا کہنا تھا کہ ہائیکورٹ کے تفصیلی فیصلے تک یہ کیس مزید نہیں چل سکتا، ہائیکورٹ نے 2 درخواستیں دوبارہ سننے کے احکامات جاری کیے تھے۔

نواز شریف نے تینوں ریفرنس یکجا کرنے کی ایک اور درخواست احتساب عدالت میں بھی دائر کی تھی جسے گزشتہ سماعت یعنی 8 نومبر کو مسترد کرتے ہوئے نواز شریف پر ایک بار پھر فرد جرم عائد کردی گئی تھی۔

نواز شریف پر فرد جرم لندن فلیٹس، العزیزیہ اسٹیل مل اور فلیگ شپ انویسٹمنٹ میں دوبارہ عائد کی گئی۔ دوسری جانب مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی فرد جرم میں ترمیم کرتے ہوئے کیلبری فونٹ سے متعلق سیکشن 3 اے فرد جرم سے بھی نکال دی گئی تھی۔

گزشتہ روز سابق وزیر اعظم نواز شریف نے احتساب عدالت کا 3 ریفرنسز یکجا نہ کرنے کا 8 نومبر کا فیصلہ ایک بار پھر اسلام آباد ہائیکورٹ میں چیلنج کردیا جس کے بعد ہائیکورٹ نے احتساب عدالت کو نوٹس جاری کردیے تھے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top