site
stats
عالمی خبریں

سعودی عرب میں غیرقانونی مقیم افراد خبردارہوجائیں

ریاض: سعودی عرب کی وزارتِ داخلہ آج سے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو پکڑنے کے لیے ایک بڑی کمپئین شروع کررہی ہے‘ بڑے پیمانے پرگرفتاریاں متوقع ہیں۔

تفصیلات کے مطابق سعودی عرب میں زائد المعیاد عرصے سے مقیم‘ رہائشی ویزے کی خلاف ورزی کرنے والے اور بارڈر سیکیورٹی ریگولیشن کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف کارروائی ہوگی۔ تارکینِ وطن‘ انہیں سعودی عرب میں لانے اور رکھنے والے اور ان سے کام لینے والے بھی اس کارروائی کی زد میں ہوں گے۔

وزارتِ داخلہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ قوانین کی پاسداری کریں ‘ ساتھ ہی ساتھ ہدایات جاری کی ہیں کہ اس قسم کے لوگوں سے نہ تو کوئی ڈیلنگ کریں ‘ نہ ہی انہیں پناہ دیں‘ انہیں ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل بھی نہ کریں اور ان کی مدد کرنے والے عناصر کی بھی مدد نہ کریں۔

منسٹری کی جانب سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ جو بھی رہائشی یا شہری ان قوانین اور ہدایات کی خلاف ورزی کرے گا ‘ ان کے خلاف قانون اپنے بھرپور انداز میں ایکشن لے گا اور سزائیں اور جرمانے یا دونوں کا سامنا کرنا پڑسکتا ہے۔

 سعودی عرب ایمنسٹی اسکیم سے کس نے فائدہ اٹھایا؟*

اعلامیے کے اختتام پر وزارت نے شہریوں اور رہائشیوں سے اپیل کی ہے کہ وہ سیکیورٹی اتھارٹیز کے ساتھ تعاون کریں اور غیر قانونی طور پر مقیم تارکینِ وطن یا ان کے سہولت کاروں کی شکایت 999 نامی نمبر پر کریں اور قوم کے لیے شروع کی جانے والی اس مہم کو کامیابی سے ہم کنار کرنے میں حکومت کی مدد کریں۔

یاد رہے کہ رواں سال کے وسط میں سعودی عرب نے غیر قانونی مقیم تارکین وطن لیے ایمنسٹی اسکیم شروع کی تھی جس سے مستفید ہونے والوں کی تعداد لگ بھگ 6 لاکھ تھی۔

اس موقع پر ریاض میں پاکستانی سفارت خانے نے اعلامیہ بھی جاری کیا تھا کہ سعودی عرب میں بہت سے ایسے پاکستانی موجود ہیں جو غیر قانونی طور پر رہائش پذیر ہیں ان میں زیادہ تر افراد ،حج، عمرہ ،زائدالمیعادویزا، کفیل یا مختلف کمپنیوں سے بھاگے ہوئے ہیں‘ وہ اس اسکیم سے فائد اٹھائیں اور قانونی طریقے سے سعودی عرب واپس آئیں۔

ایمنسٹی اسکیم کے قوانین کے تحت غیرقانونی طور پر مقیم ہر وہ غیر ملکی شخص جو اسکیم کی مقررہ مدت میں سعودی عرب چھوڑ جائے گا اس کے فنگر پرنٹس نہیں لیے جائیں گے جس کے بعد وہ قانونی طور پر واپس آنے کا اہل ہوگا اور اسے ورک ویزا یا اقامہ مل سکے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top