site
stats
عالمی خبریں

روہنگیا مسلمانوں کو بے دخل کرنے کی باتیں مفروضہ ہیں، برمی آرمی چیف کی ڈھٹائی

برما: میانمار کے آرمی چیف آف اسٹاف نے کہا ہے کہ روہنگیا میں کسی نسل کے خلاف فوج نے آپریشن نہیں کیا، روہنگیا کے مسلمانوں کو بے دخل کیے جانے کی بات مفروضے پر مبنی ہیں۔

تفصیلات کے مطابق برما کی حکومت نے روہنگیا کے گاؤں رخائن میں رواں سال اگست میں فوجی آپریشن کا آغاز کیا گیا جس کے بعد وہاں کے مسلمانوں پر مظالم بے تحاشہ بڑھ گئے اور مسلمانوں کی عبادت گاہوں کو شہید کیا گیا۔

روہنگیا کے مسلمانوں پر مظالم کی تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہوئیں تو یہ معاملہ عالمی سطح پر میڈیا میں زیر بحث آیا جس کے بعد اقوام متحدہ اور دیگر ممالک نے برما کی حکومت سے فوری طور پر مظالم بند کرنے کا مطالبہ کیا تھا۔

مادر وطن سے بے دخل کیے جانے کی باتیں بے بنیاد ہیں، آرمی چیف

آپریشن سے متعلق بریفننگ دیتے ہوئے میانمار کے آرمی چیف نے کہا کہ روہنگیا کے مسلمانوں کو ان کے مادرِ وطن سے نکالے جانے کی باتیں بے بنیاد اور مفروضے پر مبنی ہیں، میڈیا پر جتنے لوگوں کی نقل مکانی سے متعلق جو خبریں نشر کی گئیں اُن میں کوئی صداقت نہیں۔

انہوں نے کہا کہ رخائن میں آپریشن نسلی بنیادوں پر نہیں بلکہ دہشت گردوں کے خلاف کیا جارہا ہے، مادر وطن سے وہ لوگ دوسرے ممالک گئے جو غیر قانونی طور پر روہنگیا میں آباد تھے یہ لوگ دراصل بنگالی ہیں اور اُن کا ٹھکانہ بنگلہ دیش ہی ہے۔ آرمی چیف نے رخائن میں ہونے والے فوجی آپریشن اور مظالم کے کے حوالے نشر ہونے والی خبروں کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے حکومتی اقدام کی حمایت کی۔

اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق فوجی مظالم کی وجہ سے اب تک 5 لاکھ سے زائد روہنگیا کے مسلمانوں نے ہجرت کی اور وہ بنگلا دیش کے خیموں میں آکر آباد ہوئے۔

یاد رہے کہ سنہ 2011 میں میانمار میں فوجی حکومت کے خاتمے کے بعد جمہوری حکومت قائم ہوئی تھی اور امید ہوچلی تھی کہ خطے میں طویل عرصے سے جاری اس کشمکش کا خاتمہ ہوسکے گا‘ تاہم ایسا ممکن نہ ہوسکا۔

موجودہ صورتحال کے بعد بدھ مت کے مذہبی پیشوا دلائی لامہ نے بھی مسلمانوں کے حق میں بیان دیا اور کہا کہ اگر گوم بدھ زندہ ہوتے تو وہ روہنگیا مسلمانوں پر ہونے والے مظالم کے خلاف آواز اٹھاتے اور مظلوموں کا ساتھ دیتے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top