site
stats
حیرت انگیز

بنگال نے رس گلے کا مقدمہ جیت لیا

کولکتہ: بھارتی حکومت نے ’رس گلے‘ کو بنگال کی جغرافیائی علامت کا درجہ قرار دے دیا۔

تفیصلات کے مطابق بھارتی ریاستوں بنگال اور اڑیسہ کے درمیان ’رس گلے‘ کی ایجاد سے متعلق جنگ گزشتہ دو سال سے جاری تھی، یہ تنازع اُس وقت سامنے آیا تھا کہ جب اڑیسہ کے وزیر نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ ’رس گلہ‘ اُن کی ریاست میں 600 سال سے موجود ہے۔

اس دعوے کو ریاست بنگال کے وزیرخوراک نے جھوٹا اور بے بنیاد قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’رس گلہ‘ بنگال کی ایجاد ہے ساتھ ہی انہوں نے اس دعویٰ پر عدالت جانے کا بھی اعلان کیا تھا۔

دونوں ریاست کے مابین جاری جھگڑا کشیدگی اختیار کرگیا تھا جس کے بعد بالآخر بھارتی سرکاری ادارے جغرافیکل انڈیکشن رجسٹری کو میدان میں آنا پڑگیا۔

دو سال کی لڑائی کے بعد جغرافیکل انڈیکشن رجسٹری نے فیصلے سناتے ہوئے کہا کہ ’رس گلہ مغربی بنگال کی ایجاد ہے اور اس کی پیدائش کا ریاست اڑیسہ سے کچھ لینا دینا نہیں ہے‘۔

سرکاری ادارے کا فیصلہ آنے کے بعد مغربی بنگال کی وزیر اعلیٰ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر مبارک باد کا پیغام جاری کرتے ہوئے کہا کہ ’ رس گلے کو آج بنگال کی جغرافیائی علامت قرار دیا گیا ہے جو میرے لیے بہت فخر اور خوشی کی بات ہے‘۔

واضح رہے کہ کھوئے اور ملائی کو ملا کر چھوٹی چھوٹی سفید بالیں تیار کی جاتی ہیں اور ان میں مٹھاس پیدا کرنے کے لیے انہیں چینی کے شیرے میں بھگوایا جاتا ہے۔

یاد رہے کہ رس گلے کو برصغیر میں بطور میٹھے پکوان کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top