site
stats
عالمی خبریں

اسرائیل کے لیے پریشانی، حماس اور فتح نے ہاتھ ملا لیا

قاہرہ : فلسطین کی دو بڑی سیاسی قوتوں حماس اور فتح کے درمیان مصالحانہ معاہدہ طے پا گیا ہے تاکہ دہائیوں پر محیط کشیدگی اور تنازعے کا خاتمہ کیا جا سکے۔

تفصیلات کے مطابق مصالحتی معاہد حماس کے وفد کے سربراہ صالح اروری اور فتح کے لیڈر عظام الاحمد نے ایک مفاہمتی معاہدے پر دستخط کردیے ہیں جس کے تحت دونوں جماعتیں مصالحانہ رویہ اپناتے ہوئے کشیدگی کے خاتمے کے لیے مل کر کام کریں گی۔

گو کہ اس معاہدے پر 2011 میں دستخط کردیئے گئے تھے لیکن تاحال اس پر عمل درآمد نہیں کیا جاسکا تھا تاہم اب اس معاہدے پر فوری عمل درآمد کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کے لیے یہ اہم ملاقات مصر کے دارلاالحکومت قاہرہ میں ہوئی اور عمل درآمد کا روٹ میپ کا تعین کیا گیا ۔

پریس کانفرنس میں تفصیلات بتاتے ہوئے فتح کے لیڈر کا کہنا تھا کہ دونوں جماعتوں نے اس بات پر اتفاق کیا ہے کہ یکم نومبر سے مصر اور غزہ کے درمیان رفاہ بارڈر کی نگرانی فتح کی صدارتی گارڈز کے سربراہ محمود عباس کریں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ فلسطینی صدر محمود عباس نے کہا ہے کہ دو جماعتیں مقبوضہ فلسطین کے علاقے میں اس وقتک داخل نہیں ہوں گی جب تک کہ مفاہمتی معاہدہ پر عمل در آمد مکمل نہیں ہوجاتا تاکہ آزاد اور خود مختار فلسطین کا خواب شرمندہ تعبیر ہوسکے۔

نائب سربراہ حماس صالح الاروری نے کہا کہ مصر کے متوازن کردار پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ مسئلہ فلسطین دراصل مصر کا بھی مسئلہ بھی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ معاہدے کے تحت قانون ساز اسمبلی، صدارتی اور قومی کونسل کے انتخابات ایک سال کے اندر اندر کرائے جائیں گے جب کہ انتخابات سے قبل ایک متفقہ مگر غیر جانبدار نگراں حکومت کے قیام پر بھی اتفاق کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق اس معاہدے کے مندرجات کو ابھی تک شائع نہیں کیا گیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top