site
stats
کھیل

فیفا کی پاکستان پر پابندی خوش آئند ہے، کپتان قومی فٹبال ٹیم

لاہور: قومی فٹبال ٹیم کے کپتان کلیم اللہ نے کہا ہے کہ فیفا کی جانب سے پاکستان فٹبال فیڈریشن پر عائد کی جانے والی پابندی خوش آئند ہے کیونکہ اس سے بورڈ میں بہتری آسکے گی۔

تفصیلات کے مطابق فٹبال کی عالمی تنظیم فیفا کی جانب سے اعلامیہ سامنے آیا جس میں انتظامیہ نے فٹبال میں حکومتی مداخلت کو دیکھتے ہوئے پاکستان فٹبال فیڈریشن پر دو سال کی پابندی عائد کی۔

اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ پاکستان میں فٹبال کا کنٹرول تسلیم شدہ باڈی کے پاس نہیں ہے اور جب تک فٹبال کے تمام معاملات متعلقہ ادارے کو نہیں دیے جائیں گے تب تک فٹبال فیڈریشن کی رکنیت بحال نہیں کی جائے گی۔

قومی فٹبال ٹیم کے کپتان کلیم اللہ جو اس وقت لندن میں مقیم ہیں انہوں نے اے آر وائی کو ایک ویڈیو پیغام ارسال کیا جس میں انہوں نے فیفا کی پابندی کے اقدام کو سراہا اور حکومتی پالیسی پر تنقید کی۔

پڑھیں: فیفا نے پاکستان فٹبال فیڈریشن کی رکنیت معطل کردی

کلیم اللہ نے کہا کہ گزشتہ دو سال سے مین اور ویمن فٹبال ٹیمز نے عالمی سطح پر کوئی میچ نہیں کھیلا، فیفا کی پابندی کے بعد پاکستان فٹبال فیڈریشن کی دوبارہ تشکیل ہوگی جس سے نیا ٹیلنٹ سامنے آئے گا۔

صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن

فیفا کی جانب سے پابندی کا اعلان سامنے آنے کے بعد صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن نے فٹبال کے کھیل کی بربادی کا ذمہ دار حکومت کو قرار دیتے ہوئے کہا کہ رکنیت معطل ہونے پر دکھ ہوا۔

فٹبال کی بربادی میں مریم نواز اور کیپٹن صفدر کا ہاتھ ہے، فیصل صالح حیات

علاوہ ازیں پیپلزپارٹی کے رہنماء فیصل صالح حیات نے پاکستانی فیڈریشن کی معطلی پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ فٹبال کی بربادی پر مریم نواز اور کپیٹن صفدر کو مبارک باد دیتا ہوں کیونکہ ان دونوں شخصیات کی ایما پر فیڈریشن کے دفتر پر قبضہ کیا گیا۔

انہوں نے کہا کہ شہباز شریف اور حمزہ شہباز بھی فٹبال کی بربادی کے ذمہ دار ہیں، حکومت پاکستان فٹبال فیڈریشن کی معطلی کے بعد اپنے مشن میں کامیاب ہوگئی۔ فیصل صالح حیات نے طنزیہ انداز میں مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ  اگر کیپٹن صفدر کو پی ایف ایف سی کا صدر بنا دیا جائے تو معاملات بہتر ہوجائیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top