site
stats
اے آر وائی خصوصی

لیاقت آباد: مریم مختیار شہید کے نام سے منسوب کالج

کراچی: پاکستانی قوم اور حکومت فرائض کی انجام دہی کے دوران شہید ہونے والے افراد کو کبھی فراموش نہیں کرتے یہی وجہ ہے کہ لیاقت آباد میں واقع لڑکیوں کے اپوا گرلز کالج لیاقت آباد کو پاک فضائیہ کی پہلی شہید خاتون پائلٹ کے نام سے منسوب کردیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق پاک فضائیہ کی پہلی خاتون شہید پائلٹ مریم مختیار کی شہادت اور اُن کی قومی خدمات کو مدنظر رکھتے ہوئے حکومت سندھ کی جانب سے اپوا گرلز کالج کو خاتون پائلٹ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے۔

قیام پاکستان کے بعد دارالحکومت بننے والے شہر کراچی میں پہلے گونر جنرل شہید لیاقت علی خان کے نام  سے منسوب علاقے ’لیاقت آباد‘ میں اپوا کالج کا قیام تقریبا چالیس برس قبل عمل میں لایا گیا۔

تین ہٹی سے شاہراہ لیاقت جاتے ہوئے ڈاکخانے کے بعد اور سپریم مارکیٹ کے درمیان میں واقع اپوا کالج سے ہزاروں طالبات اپنی تعلیم مکمل کرچکی ہیں اور اب وہ امور خانہ سمیت مختلف شعبوں میں امور سرانجام دے رہی ہیں۔

Shaheed-Marium-1

کالج سے ملنے والی معلومات کے مطابق ’’گزشتہ برس درسگاہ کا نام تبدیل کر کے اسے شہید مریم مختیار کے نام سے منسوب کیا گیا تاکہ اُن کی خدمات کو زندہ رکھا جاسکے‘‘۔

APWA

معلمہ کے مطابق ’’کالج کا نام تبدیل کرنے کا اصل مقصد یہ ہے کہ ہم لڑکیوں کو بتا سکیں کہ ہمارے درمیان آپ جیسی ہی ایک بچی تھی جس نے دلجمعی کے ساتھ اعلیٰ تعلیم حاصل کر کے اپنے والدین اور ملک کا نام روشن کیا‘‘۔ پاک فضائیہ کی شہید پائلٹ مریم مختیار گورنمنٹ گرلز ڈگری کالج میں اس وقت چار سو سے زائد جبکہ اسکول میں بھی تقریبا اتنی ہی تعداد میں طالبات زیر تعلیم ہیں۔

تعارف مریم مختیار شہید

مریم مختیار 18مئی 1992ء کو کراچی میں پیدا ہوئیں، ابتدائی تعلیم کراچی میں حاصل کی اور سول انجینئرنگ میں ڈگری حاصل کی، مریم کے والد کرنل (ر) مختیار احمد شیخ پاک فوج میں شامل تھے، ایک فوجی گھرانے سے تعلق رکھنے کی وجہ سے ملک و قوم کیلئے کچھ کر دکھانے کی امنگ ان میں بچپن سے ہی موجزن تھی۔

m3-2

آپ 6 مئی 2011 میں پاک فضائیہ کا باقاعدہ حصہ بنیں، اور 24 ستمبر 2014 کو ایئر فورس سے گریجوایشن مکمل کی، مریم مختیار 132 ویں جی ڈی پائلٹ کورس میں شریک تھیں، مریم مختیار نے پی اے ایف اکیڈمی رسالپور میں فائٹر جیٹ اڑانے کی تربیت حاصل کی اور پاکستان کی پہلی فلائنگ آفیسر کا عہدہ حاصل کیا۔

m6-4

فلائنگ آفیسر مریم مختیار چوبیس نومبر 2015 کو اپنے انسٹرکٹر، ثاقب عباسی کے ساتھ معمول کی تربیتی پرواز پر تھیں کہ میانوالی کے قریب ان کا طیارہ تیکنیکی خرابی کی وجہ سے گر کر تباہ ہوگیا تھا اور آپ شہادت کے رتبے پر فائز ہوئیں۔

نام تبدیلی کی منظوری

آل پاکستان وومین ایسوسی ایشن (اپواء) کے تحت چلنے والے اسکول کے نام کی تبدیلی کی منظوری گزشتہ برس نومبر میں وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کی جانب سے دی گئی تھی، جس کے بعد اب اُسے شہید مریم مختیار کالج کہا جاتا ہے۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top