site
stats
صحت

تنہا رہنا کس حد تک نقصان دہ؟

بعض افراد تنہا رہنا پسند کرتے ہیں اور لوگوں سے ملنا جلنا نہیں چاہتے، تاہم حال ہی میں ایک تحقیق میں انکشاف ہوا کہ تنہائی جسمانی صحت کے لیے سخت نقصان دہ ہے۔

امریکا کی برگھم ینگ یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق کے مطابق تنہا رہنا یا تنہائی کا شکار ہوجانا کسی شخص کی قبل از وقت موت کا سبب بن سکتا ہے۔

مزید پڑھیں: تنہائی سے بچنے کا آسان حل

ماہرین کے مطابق انسان کی فطرت ایک معاشرتی جانور کی ہے اور لوگوں سے گھلنا ملنا اور غیر رسمی تعلق رکھنا جسمانی صحت کی بہتری کے لیے ایک ضرورت ہے۔

تحقیق کے مطابق 2 سال کی عمر تک کے وہ بچے بھی جو والدین کے علاوہ دیگر افراد کی زیر نگرانی رہتے ہیں ان کا انسانی رابطہ کم ہوتا ہے اور وہ انسانی لمس سے محروم رہتے ہیں، ایسے بچوں کی شیر خوارگی میں ہی موت کا امکان بڑھ جاتا ہے۔

ماہرین کے مطابق ’آپ نے قید تنہائی کی بارے میں سنا ہوگا؟ تنہائی دراصل ایک سزا تصور کی جاتی ہے کیونکہ یہ بدترین جسمانی و نفسیاتی اثرات مرتب کرتی ہے‘۔

مزید پڑھیں: سوشل میڈیا تنہائی کا سبب

تحقیق میں بتایا گیا کہ لوگوں سے کم تعلق رکھنا اور تنہا رہنا الزائمر کے خطرے کا امکان بڑھا دیتا ہے، جبکہ بریسٹ کینسر کا شکار خواتین بھی تنہا ہونے کی صورت میں اس مرض سے لڑنے میں ناکام رہتی ہیں اور موت کا شکار ہوجاتی ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے تنہائی کے منفی اثرات دونوں اقسام کے افراد کو یکساں طور پر متاثر کرتے ہیں، ایک وہ جو شروع سے تنہا رہ رہے ہوں اور مزید تنہا رہنا چاہتے ہوں، اور دوسرے وہ جو کسی وجہ سے اپنے اپنوں یا شریک حیات سے علیحدگی کے بعد تنہا زندگی گزار رہے ہوں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top