site
stats
پاکستان

خنجر حملہ:‌ اتنی کمزور نہیں اکیلے پرچہ دیتی، خدیجہ

لاہور: ساتھی طالب علم کی جانب سے ایک سال قبل زخمی ہونے والی طالبہ خدیجہ نے کہا ہے کہ میں اتنی کمزور نہیں کہ علیحدہ کمرے میں بیٹھ کر پرچہ دیتی، میرے والدین نے بھرپور ساتھ دیا اسی وجہ سے آج ایک بار پھر میرے اندار خود اعتمادی پیدا ہوگئی۔

اے آر وائی کے پروگرام سوال یہ ہے میں گفتگو کرتے ہوئے خدیجہ نے کہا کہ میں اتنی کمزور نہیں کہ علیحدہ کمرے میں بیٹھ کر پرچہ دیتی،آج ڈرتےکانپتےجیسےتیسےپیپردیا مگر سب کے ساتھ بیٹھی۔

متاثرہ طالبہ نے کہا کہ والدین کے بھرپور ساتھ دینے کی وجہ سے آج میرے اندر ایک بار پھر خود اعتمادی پیدا ہوگئی ہے، ملزم اور اُس کے گھر والے مقدمہ واپس لینے کے لیے دھمکاتے رہتے ہیں اور مسلسل دباؤ ڈال رہے ہیں مگر ہم نے ہار نہیں مانی۔

یاد رہے خدیجہ صدیقی اور شاہ حسین لا کالج میں پڑھتے ہیں اور ہم جماعت بھی ہیں ایک سال قبل شاہ حسین ساتھی طالبہ خدیجہ صدیقی پر تیز دھار آلے سے گردن، سینے اور ہاتھ پر 23 ضربیں لگا کر فرار ہوگیا تھا۔

خوش قسمتی سے زخمی طالبہ کو فوری طبی امداد دی گئی اور دو کامیاب آپریشن کے بعد روبہ صحت ہو گئی تاہم اس دوران وہ اپنے امتحانات نہیں دے پائی تھی واقعے میں طالبہ کی چھوٹی بہن بھی زخمی ہوئی تھی۔

دوسری جانب مفرو ملزم حسین شاہ کو راہ گیروں کی جانب سے بنائی گئی ویڈیو کلپس اور بہن کی گواہی کی بنیاد پر گرفتار کرلیا گیا اور وہ دو ماہ تک جیل کی ہوا بھی کھاتا رہا تاہم ملزم کے والد جو کہ لاہور کے مشہور وکیل اور وکلاء کی تنظیم کے رہنما بھی ہیں نے مبینہ طور پر اپنے تعلقات استعمال کرتے ہوئے بیٹے کو رہا کروالیا۔

طالبہ خدیجہ صدیقی نے کمال بہادری کا ثبوت دیتے ہوئے تن تنہا انصاف کے حصول کے لیے طاقت ور اور اثرو رسوخ رکھنے والے ملزم کے خلاف قانونی چارہ جوئی کرتی رہیں جس کے دوران مبینہ طور پر ملزم کے والد اور مقامی وکیل رہنماؤں کی جانب سے دباؤ کا سامنا رہا۔

ملزم شاہ حسین اثر و رسوخ کے باعث واقعے کے دوماہ بعد ہی ضمانت پر رہا ہوگیا تھا اور لاء کالج میں ہونے والے امتحانات میں شرکت کی جہاں خدیجہ نے بھی ہار نہ مانی اور اپنی تعلیم کو جاری رکھتے ہوئے آج عام طالب علموں کے ساتھ بیٹھ کر پرچہ دیا۔

گزشتہ روز قانون کی طالبہ خدیجہ صدیقی نے چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار سے انصاف کی اپیل کرتے ہوئے کہا تھا کہ ملزم کی موجودگی کی اطلاعات میرے لیے باعث تشویش ہے اپنے اوپر قاتلانہ حملے کرنے والے کو ساتھ امتحان دیتے ہوئے دیکھ کر نہایت افسوس ہوگایہ انصاف کا قتل ہوگا۔

Please follow and like us:

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ [email protected] اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top