site
stats
حیرت انگیز

پاکستانی طالب علم حنین ضیاء نے تعلیمی میدان میں 6 عالمی ریکارڈ بنا ڈالے

اسلام‌ آباد : لودھراں سے تعلق رکھنے والے ہونہار پاکستانی طالبِ علم حنین ضیا نے اے او لیول امتحانات میں ریکارڈ ساز کامیابی حاصل کرتے ہوئے دو سال میں 66 اے گریڈ حاصل کرلیے۔

تفصیلات کے مطابق معین علی نوازش اور طارق ہارون کے بعد ایک اور ہونہار پاکستانی طالب علم اپنے ہم وطنوں کے علاوہ دیگر ممالک کے طلباء کو پیچھے چھوڑ گئے، انہوں ںے اے اور او لیول کے امتحانات میں 6 عالمی ریکارڈ بنا ڈالے۔

حنین ضیاء نے کا پہلا ریکارڈ دوسال میں 66 اے گریڈ حاصل کرکے بنایا جس کے لیے انہوں نے 27 دن میں 45 مضامین کے 154 پیپرز میں شرکت کی جو کہ بذات خود کم وقت میں زیادہ زیادہ سے مضامین اور پیپرز دینے کا ایک ریکارڈ ہے دوسری جانب انہوں نے ایک دن میں 19، 19 گھنٹے لگا تار امتحان دے کر بھی ریکارڈ قائم کیا یا اور ایک سیشن میں 20 گریڈ لیے۔

حنین ضیاء نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ فیس بک پر اس کامیابی کی وجہ گزشتہ سال اپریل میں اپنے قریبی دوستی سے ازلی جدائی کے اندوہناک واقعے کے بعد خود کو تلاش کرنے اور ایک منزل متعین کرنے کے لیے جدوجہد کو قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ اپریل سے قبل میں عمومی طور پر 12 اے اسٹار لیا کرتا تھا اور معمول کے مضامین کے پیپرز دیا کرتا تھا جیسا کہ سب ہی کرتے ہیں لیکن دوست کی جدائی نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کیا۔

حنین ضیاء پاکستان میں نظام تعلیم میں انقلابی تبدیلی کے خواہاں ہیں اور اس کے لیے اپنا حصہ موثر منصوبہ بندی کے ساتھ ڈالنا چاہتے ہیں، اور وہ فروغ تعلیم کے لیے ابھی سے کوشاں ہیں اور ایک ٹیم کے ہمراہ اس پر کام بھی کر رہے ہیں۔

حنین ضیاء کا کہنا ہے کہ کچھ لوگ پیسے کے بل پر مقام حاصل کر لیتے ہیں کچھ کے کام پرچی آتی ہے لیکن بہت سے باصلاحیت اور ذہین نوجوان پیسے کی کمی اور سفارش نہ ہونے کی وجہ سے اپنے شان شایان مقام حاصل نہیں کر پاتے۔

حنین ضیاء نے کہا کہ میں اور میری ٹیم باصلاحیت نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور ذہین طلباء کی رہنمائی کے لیے ٹیلنٹ ہنٹ پروجیکٹ کی ابتداء کر رہے ہیں اور ذہین طلباء کے لیے مفت تعلیم اور معیاری سہولتوں کی فراہمی کے لیے مختلف پروجیکٹس پر کام کر رہے ہیں جس سے امید ہے کہ باصلاحیت نوجوان سامنے آئیں گے۔

Print Friendly

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ [email protected] اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top