site
stats
صحت

شہد کے خالص ہونے کی پہچان کریں

شہد بے شمار امراض کی دوا ہے اور یہ بغیر کسی مضر اثرات کے بہت سی بیماریوں کا علاج کر سکتا ہے۔ کئی سائنسی تحقیقوں میں یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ شہد تمام بیماریوں کے علاج میں مفید ثابت ہوتا ہے۔

لیکن ہمیں دستیاب ہونے والا ہر شہد خالص نہیں ہوتا۔ آج کل بازاروں میں جعلی شہد کی فروخت عام ہے کیوں کہ عموماً اکثر افراد شہد کے اصل یا نقل ہونے کی پہچان نہیں رکھتے۔

pooh

یہاں ہم آپ کو خالص شہد کی پہچان کرنے کے کچھ طریقے بتارہے ہیں جن پر عمل کر کے آپ یقیناً جعلی شہد خریدنے سے بچ جائیں گے۔

:پانی میں حل کریں

honey-8

خالص شہد کی پہچان کا سب سے آسان طریقہ اسے پانی میں حل کر کے دیکھنا ہے۔ ایک گلاس میں پانی لے کر شہد سے بھرا چمچ اس میں ڈال دیں۔ اگر شہد خالص ہوا تو یہ پانی میں حل نہیں ہوگا۔

اگر خالص نہ ہوا تو حل ہو جائے گا یعنی اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد گڑ سے بنایا گیا ہے۔

:آگ سے جلائیں

honey-3

ایک عدد موم بتی لیں اور اس میں موجود کاٹن کی بتی کو شہد میں بھگو کر ایک بار جھٹک دیں۔ اب اسے لائٹر سے آگ لگانے کی کوشش کریں۔ اگر یہ بتی آگ پکڑ لے تو سمجھ جائیں کہ شہد خالص ہے۔

:گاڑھا پن

honey-5

خالص شہد عموماً گاڑھا ہوتا ہے۔ اس کو دیکھنے کے لیے شہد کو ایک چمچے میں بھریں اور اسے کسی برتن میں خالی کرنے کی کوش کریں۔

اگر یہ آہستگی سے چمچ سے نیچے گرے تو قوی امکان ہے کہ یہ اصلی ہے۔ جعلی شہد مائع کی صورت میں تیزی سے چمچے سے بہنے لگے گا۔

:ڈبل روٹی پر لگائیں

honey-4

شہد کو ڈبل روٹی پر لگائیں۔ اگر ڈبل روٹی سخت رہے تو اس کا مطلب ہے کہ شہد خالص ہے۔ اگر ڈبل روٹی نرم ہو کر شہد میں بھیگنے لگے تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد چینی سے بنایا گیا ہے۔

:فریج میں رکھیں

honey-7

خالص شہد فریج میں رکھنے کی صورت میں جم جاتا ہے اور مزید گاڑھا ہوجاتا ہے تا وقتیکہ اسے فریج سے باہر رکھ کر معمول کے درجہ حرارت پر نہ لایا جائے۔ نقلی شہد فریج میں رہنے کے باوجو جوں کا توں مائع حالت میں برقرار رہتا ہے۔

:جذب کرنے والا کاغذ

honey-1

شہد کے چند قطرے جذب کرنے والے کاغذ پر ٹپکا دیں۔ اگر یہ کاغذ قطروں کو جذب کر گیا تو اس کا مطلب ہے کہ یہ شہد خالص نہیں ہے۔ خالص شہد کاغذ کی سطح پر موجود رہے گا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top