site
stats
پاکستان

حسن اورحسین نواز کو آج اشتہاری ملزم قرار دیے جانےکا امکان

اسلام آباد : نااہل وزیراعظم کے بیٹے حسن نواز اورحسین نوازکوآج اشتہاری ملزم قراردیے جانے کا امکان ہے۔

تفصیلات کے مطابق سابق وزیراعظم نواز شریف کے بیٹوں حسن نواز اورحسین نواز کو آج اشتہاری ملزم قراردیے جانے کا امکان ہے۔

گذشتہ روز عدالت نے دونوں کی جائیداد قرق کرنے کا حکم جاری کیا تھا جبکہ نیب نے احتساب عدالت میں تعمیلی رپورٹ بھی جمع کرائی تھی۔

فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنس میں تفتیشی افسر نے بیان میں کہا تھا کہ دونوں ملزمان کی بذریعہ اشتہارطلبی کےاحکامات پر عمل کرایا گیا، اشتہارات گھروں کے باہر اور عدالتی نوٹس بورڈ پر آویزاں کیےگئے ، رائے ونڈ روڈ پر اعلانات بھی کرائے گئے ، لندن تک نوٹس بھبجوائے مگر دونوں ملزمان نہیں آئے۔


مزید پڑھیں : حسن اورحسین نواز کو اشتہاری قراردینے کے لیے تعمیلی رپورٹ عدالت میں پیش


نیب نے بتایا کہ حسین نواز کے چار بینک اکاؤنٹس میں رقم موجود ہے جبکہ حسن اور حسین نواز کے چھ کمپنیوں میں شئیرز ہیں۔

بعد ازاں عدالت نے شیئرز بھی منجمد کرنے کی ہدایت دی تھی۔

یاد رہے کہ احتساب عدالت نے حسن اور حسین کو عدم پیشی پر اشتہاری قرار دینے کے بعد کیس الگ کردیے تھے۔

نیب کی جانب سے حسن حسین نوازکواشتہاری قراردینےکی استدعا کی گئی تھی اور کہا گیا تھا کہ حسن اورحسین نوازروپوش ہوگئےہیں، حسن اورحسین نوازعدالتی کارروائی کاسامنا نہیں کرنا چاہتے۔


مزید پڑھیں : احتساب عدالت نے حسن اور حسین نواز کو اشتہاری قرار دے دیا


خیال رہے کہ نیب عدالت نے حسین نواز، حسن نواز طلب کررکھا تھا، احتساب عدالت میں عدم پیشی پرعدالت ملزمان کو گرفتار کرکے پیش کرنے کا واضح حکم پہلے ہی دے چکی ہے۔

واضح رہے کہ کہ لندن فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں سابق وزیراعظم نوازشریف ان کے دونوں بیٹے حسن اور حسین نواز، مریم نواز اور داماد کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کوملزم نامزد کیا گیا دیگر دو ریفرنسز العزیزیہ اسٹیل ملزجدہ اور آف شور کمپنیوں سے متعلق فلیگ شپ انوسٹمنٹ ریفرنسز میں نوازشریف سمیت ان کے دونوں صاحبزادوں کو ملزم نامزد کیا گیا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top