site
stats
عالمی خبریں

نپولین کے تاج میں نصب سونے کا پتہ نیلام کرنے کا اعلان

پیرس: مشہور فرانسیسی سپہ سالار اور شہنشاہ نپولین بونا پارٹ کے تاج میں نصب سونے سے بنا ہوا پتہ نیلام کرنے کا اعلان کردیا گیا۔

اپنے پستہ قد کی وجہ سے مشہور اس عظیم سپہ سالار نے بے شمار جنگوں میں فتح حاصل کی۔ فوج کے ایک معمولی افسر سے لے کر اس پر ایک وقت ایسا آیا کہ اس نے پورے فرانس اور آس پاس کی دیگر ریاستوں پر اپنی حکومت قائم کرلی، اور خود کو شہنشاہ کا خطاب دے ڈالا۔

سنہ 1804 میں پیرس کے نوٹرے ڈیم کیتھڈرل میں پوپ کی موجودگی میں نپولین نے خود ہی اپنی تاج پوشی کی اور خود کو شہنشاہ اور اپنے خاندان کو شاہی خاندان قرار دے ڈالا۔

وہ دراصل رومی شہنشاہیت سے بے حد متاثر تھا اور اس کا تاج بھی مشہور رومی جرنیل جولیس سیزر سے مشابہ تھا۔

نپولین نے اپنی تاج پوشی کے وقت جو تاج پہنا وہ بہت بھاری بھرکم اور وزنی تھا۔ تاج میں سونے سے بنے ہوئے 44 بڑے پتے جبکہ 12 چھوٹے پتے سجائے گئے تھے۔

اس وقت اس تاج کو 8 ہزار فرانکس (فرانسیسی کرنسی) میں بنایا گیا تھا جو اس وقت ایک کثیر ترین رقم تھی۔ اسی طرح تاج کو جس ڈبے میں رکھا جاتا تھا جو 13 سو فرانک میں بنوایا گیا۔

نپولین نے جب تاج کے وزنی ہونے کی شکایت کی تو تاج میں سے 6 بڑے سونے کے پتوں کو نکال دیا گیا۔ جس سنار نے تاج میں یہ تبدیلی کی بعد ازاں اس نے یہ 6 پتے اپنی 6 بیٹیوں کو تحفتاً دے دیے۔

نپولین کی واٹر لو میں ہزیمت ناک شکست اور اسے قید کردیے جانے کے بعد اس کا تاج تو پگھلا دیا گیا، تاہم سنار کے پاس تاج میں سے نکالے گئے پتے محفوظ تھے۔

فرانسیسی نیلام گھر اوسینٹ کا کہنا ہے کہ یہ پتہ اسی سنار کے خاندان سے حاصل کیا گیا ہے، اور بقیہ پتوں کے بارے میں ابھی کوئی فیصلہ نہیں کیا گیا کہ ان کا کیا کیا جائے گا۔

مزید پڑھیں: نپولین کی پسندیدہ ٹوپی نیلام

نیلام گھر کو امید ہے کہ 19 نومبر کو نیلام کیا جانے والا یہ پتہ ایک سے ڈیڑھ لاکھ یوروز میں نیلام ہوگا۔

اوسینٹ نیلام گھر کا کہنا ہے کہ ان کے پاس نپولین کی بیگم جوزفین کا ایک سچے موتیوں کا ہار بھی موجود ہے اور اسے بھی وہ جلد نیلام کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top