site
stats
حیرت انگیز

ڈائنوسار کے خاندان کی آخری زندہ مخلوق

frilled shark

پرتگال کے گہرے پانیوں میں ڈائنوسار کے عہد سے تعلق رکھنے والی شارک پکڑی گئی‘ سائنسدانوں نے اسے زندہ ’فوصل‘ (رکاز) قرار دیا ہے۔

تفصیلات کے مطابق پرتگال کی ساحلی پٹی پر ایک فشنگ ٹرالر نے یہ حیرت انگیز شارک پکڑی جس کے منہ میں تین سو دانت اور سر کسی سانپ سے مشابہت رکھتا ہے۔

سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ ریسرچ پراجیکٹ کے دوران پکڑی جانے والی یہ غیر معمولی شارک آٹھ کروڑ سال قدیم زمانے سے موجود ہے اور جس عہد میں ڈائنو سار اور دیگر غیر معمولی جاندار زمین سے معدوم ہوگئے‘ یہ نسل اپنی بقا کی جنگ میں کامیاب رہی ہے۔

سمندر میں بلاؤں کی کہانیاں سچ نکلیں*

ریسرچ کرنے والے محققین کے مطابق یہ شارک ٹی ریکس اور ٹرائی سیراٹوپس نامی ڈائنا سورز کی قریبی رشتہ دار ہے جو کہ لاکھوں سال قدم زمین پر معدوم ہوچکے تاہم یہ خوش قسمت جاندار ابھی بھی سمندر میں 700 میٹر کی گہرائیوں میں تیرتے ہوئے اپنی بقا کی جنگ میں تا حال فاتح ہے۔

اس سے قبل 2003 میں بھی ایک فشنگ ٹرالر نے اسی قبیلے کی 15 نر اور 19 مادہ شارک پکڑی تھیں اور اس موقع پر سائنسدانوں نے اسے زندہ فاصل کا نام دیا تھا‘ فاصل کسی بھی جاندار کی پتھرائی ہوئی حالت کو کہتے ہیں اور زندہ فاصل یعنی ایسا جاندار جو زمانہ قدیم کی تمام تر خصوصیات کے ساتھ زندہ ہے۔

یونی ورسٹی آف الگاروے سے تعلق رکھنے والے پروفیسر مرگارڈیا کیسٹرو کا کہنا ہے کہ اس شارک کے منہ میں تین سو دانت ہیں اور جو کہ اسے کسی بھی بڑی سمندری حیات کو دبوچنے میں مدد دیتے ہیں۔

یہ شارک ڈیڑھ میٹر (ساڑے چار فٹ) لمبی ہے‘ اورزیادہ آسٹریلیا ‘ نیوزی لینڈ اور جاپان کے ساحلوں میں انتہائی گہرائی میں پائی جاتے ہیں جہاں مسلسل اندھیرا رہتا ہے اور درجۂ حرارت انتہائی سرد ہے۔

ابھی تک ماہرین یہ معلوم کرنے میں ناکام رہے ہیں کہ جہاں اس جھالر دار شارک کے باقی تمام رشتے دار معدوم ہوچکے ‘ یہ کس طرح زمین پر اپنی بقا کی جنگ میں کامیاب رہی ہے۔ یہ بھی خیال کیا جاتا ہے کہ انیسویں صدی کے ملاح جن سمندری بلاؤں کے قصے سنایا کرتے تھے ‘ یہ انہی میں سے ایک ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top