site
stats
اہم ترین

جے آئی ٹی دستاویزات کےمطابق نوازشریف نے تنخواہ وصول کی‘ سپریم کورٹ

Sharif family

اسلام آباد : پاناما کیس فیصلے پر نظرثانی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کے دوران سپریم کورٹ نے ریماکس دیے کہ دستاویزات کہتی ہیں کہ نوازشریف نے ملازم کی حیثیت سے تنخواہ وصول کی۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں جسٹس آصف سعید کھوسہ کی سربراہی میں 5رکنی لارجر بینچ پاناما کیس فیصلے پر نظرثانی سے متعلق درخواستوں پر سماعت کا آغاز کردیا۔


نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث کے دلائل


سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل خواجہ حارث سماعت کے آغاز پر دلائل دیتے ہوئے کہا کہ اثاثے مکمل چھپانے سےمتعلق بھی قانون موجود ہے جبکہ آرٹیکل 62 ون ایف صرف اثاثے چھپانےپراستعمال نہیں ہوتا۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ تاحیات نااہلی کے سنگین نتائج برآمد ہوتے ہیں،نااہلی کے لیے قانون میں واضح طریقہ کار درج ہے۔

خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ الیکشن کالعدم ہوتا تونا اہلی ایک ٹرم کے لیے ہوتی جبکہ نواز شریف کو اقامہ، تنخواہ ظاہر نہ کرنے پرنا اہل کیا گیا۔

سابق وزیراعظم نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ نااہلی کے لیے بلیک لا ڈکشنری میں موجود تعریف استعمال کی گئی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نواشریف نے کبھی تنخواہ کا دعویٰ نہیں کیا تھا اور کبھی تنخواہ کو اثاثہ سمجھا ہی نہیں، سمجھنے میں غلطی پرکہا گیا کہ صادق اورامین نہیں رہے۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ غلطی کرنے پر آرٹیکل 62 ون ایف کا اطلاق نہیں ہوسکتا،جس پرجسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ معاہدے میں لکھا تھا نوازشریف کو10ہزاردرہم تنخواہ ملے گی۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ہم کیسےمان لیں کہ وہ تنخواہ کواثاثہ نہیں سمجھتےتھےجبکہ قانونی شہادت کےمطاق تحریرکوزبان پرفوقیت حاصل ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ معاہدےاوراس کی کسی شق سے انکار نہیں کررہا،جس پرجسٹس اعجازافضل نے کہا کہ معاہدےمیں تنخواہ نہ لینےکا ارادہ کہیں شامل نہیں ہے۔

نوازشریف کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نوازشریف نے بیٹے کوشروع میں ہی کہہ دیا تھا کہ تنخواہ نہیں لیں گے، جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ بیٹے کے ساتھ زبانی معاہدے کی کوئی اہمیت نہیں ہے۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ جسٹس رمدے نے حلف سے پہلےکہا تنخواہ ٹرسٹ میں جائے گی بطورایڈ ہاک جج جسٹس رمدے کی تنخواہ ٹرسٹ میں جاتی رہی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کو صفائی کا موقع ملتا تو صورتحال مختلف ہوتی، خواجہ حارث نے کہا کہ نوازشریف کےاکاؤنٹ میں تنخواہ کا ایک روپیہ بھی نہیں آیا۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ نوازشریف نے تنخواہ والا اکاؤنٹ ظاہر نہیں کیا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی نے یہ نہیں کہا کہ کوئی اکاؤنٹ چھپایا گیا۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ جے آئی ٹی کے مطابق والیم نائن میں تمام ریکارڈ موجود ہے جبکہ 194811 نواز شریف کا ایمپلائی نمبر تھا۔

انہوں نے کہا کہ نوازشریف کے نام پر ایک ذیلی اکاؤنٹ کھولا گیا تھا، دستاویزات کے مطابق تو تنخواہ وصول کی گئی تھے۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ عدالت نے فیصلہ تسلیم شدہ حقائق پر کیا تھا، خواجہ حارث نے کہا کہ سوال صرف یہ ہے 62 ون ایف کا اطلاق ہوتا ہےکہ نہیں۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ ذیلی اکاؤنٹ نوازشریف کا نہیں کمپنی کا ہے،جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ اثاثے چھپانے پرصرف الیکشن کالعدم نہیں ہوتا اثاثے چھپانے والا نمائندگی کا حقدار نہیں رہتا۔

خواجہ حارث نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ نواز شریف کے کسی اکاؤنٹ میں ایف زیڈ ای سے رقم منتقل نہیں ہوئی، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ فیصلے میں اکاؤنٹ کا ذکرنہیں اس لیے اس پر بات نہ کریں۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ ہر آمدن اثاثہ نہیں ہوتی،اثاثہ آمدن بینک میں ہوتی ہے یا کیش کی صورت میں ہوتی ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ کوئی عدالتی مثال نہیں کہ ایک اثاثہ ظاہرنہ کرنے پرنا اہلی ہو،انہوں نے کہا نیب کوبراہ راست ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا گیا۔


پاناما کیس فیصلہ پر نظرثانی درخواستوں پر سماعت


نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کی بنیاد پر ریفرنس دائر نہیں ہوسکتا، جے آئی ٹی نے زیادہ تردستاویزات ذرائع سے حاصل کیں۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ میں خامیاں ہیں اس کا فائدہ آپ کو ہوگا جبکہ ٹرائل کورٹ میں آپ کو جرح کا موقع ملے گا۔

انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ کو ناقابل تردید سچ تسلیم نہیں کیا، جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ رپورٹ کی بنیاد پرنواز شریف کومجرم قرار نہیں دیا۔

خواجہ حارث نے کہا کہ جے آئی ٹی کو مکمل رپورٹ پیش کرنے کا حکم دیا گیا تھا جبکہ جے آئی ٹی نے نامکمل رپورٹ دی جس پر فیصلہ نہیں ہوسکتا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں جے آئی ٹی کو تحقیقات جاری رکھنے کا حکم دیں؟ جس پر نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ نامکمل رپورٹ پر عدالت نے ریفرنس دائر کرنے کا حکم کیسے دیا۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ جسٹس آف پیس بھی بادی النظرمیں کیس بنتا ہوتومقدمےکا حکم دیتا ہے جبکہ مقدمہ درج کرنے کا حکم ٹرائل اورقانونی عمل سےنہیں روکتا۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ ریفرنس دائر کرنے کا حکم ٹرائل کومتاثر نہیں کرتا جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالتی حکم سے ٹرائل شفاف نہیں ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرائل کورٹ آزادی سے جو چاہے گی فیصلہ کرے گی،ٹرائل کورٹ کو شواہد کا جائزہ لینے دیں۔ جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ فیصلہ کرے گی کہ کیس بنتا ہے یا نہیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ نیب اپنا کام کرتا تو معاملہ سپریم کورٹ نہ آتا، چیئرمین نیب نےخود کہا کہ وہ کچھ نہیں کرسکتے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ تمام ججز نے اس معاملہ پر کھل کر اپنی رائے دی ہے،انہوں نے کہا کہ ڈر تھا چیئرمین نیب اسپینش زبان میں ریفرنس دائر نہ کردیتے۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ عدالتی فیصلے کےپیراگراف 9 میں آپ کےسوالات کےجواب ہیں جس پر خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے کہا کہ بادی النظر میں کیس بنتا ہے۔

جسٹس اعجاز افضل نے کہا کہ ٹرائل تو شواہد کی بنیاد پر ہوگا جبکہ عدالتی آبزرویشن ٹرائل کورٹ پر اثر انداز نہیں ہوں گی۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ فیصلے میں پہلے بھی لکھا تھا اب دوبارہ لکھ دیں گے، جسٹس کھوسہ نے کہا کہ ہائی کورٹ بھی فوجداری مقدمات میں چالان پیشی کا حکم دیتی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالت نے کہا چیئرمین نیب کچھ کرنا ہی نہیں چاہتے، انہوں نے کہا کہ جہاں تحقیقاتی ادارہ بھاگ رہا ہو وہاں عدالت حکم دیتی ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے کبھی مخصوص افراد کے خلاف چالان کا حکم نہیں دیا، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آمدن سےزائد اثاثوں کا کیس مخصوص افراد کےخلاف ہی بنتا ہے۔

نوازشریف کے وکیل نے کہا کہ آپ نے بچوں پر بھی ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا،جس پر جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ بچہ کوئی بھی نہیں ہے، وہ سب بچوں والے ہیں۔

خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت کو کہنا چاہیے تھا کہ کیس بنتا ہے تو ریفرنس دائر کریں،جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ چیئرمین نیب کی جانبداری پر کئی فیصلے دے چکے ہیں۔

جسٹس اعجاز الحسن نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ریفرنس کا معاملہ چیئرمین نیب پر چھوڑ دیتے، انہوں نے کہا کہ چیئرمین نیب کا بیک گراؤنڈ اور کنڈکٹ بھی ذہن میں رکھیں۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ 28 جولائی کےفیصلہ میں 20 اپریل کےحکم کا حوالہ موجود ہے، جسٹس آصف کھوسہ نے کہا کہ عدالتی فیصلہ واضح ہے کس کے خلاف کیا کارروائی ہونی ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 28جولائی کا حکم اس جملےسےشروع ہوا یہ سابق فیصلےکا تسلسل ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ 2 ججز کے دستخط سے ان کا فیصلہ بھی حتمی فیصلے کا حصہ بن گیا۔

نوازشریف کے وکیل نےکہا کہ عدالت نے 6 ماہ میں فیصلے کا حکم دیا جو نہیں دینا چاہیے تھا،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ نیب قانون کے مطابق 6 ماہ میں ٹرائل مکمل ہونا چاہیے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ عدالت نے فیصلے میں لکھا ہے کہ ایک ماہ میں فیصلہ ہونا ممکن نہیں، انہوں نے کہا کہ جے آئی ٹی رپورٹ پر ریفرنس ایک دن میں ختم ہوسکتا ہے۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ ریفرنس ختم ہوسکتا ہے تو مسئلہ کیا ہے، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کو قانون سے بڑھ کروقت دیا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ وقت درکار ہو تو ٹرائل کورٹ درخواست دیتی ہےجس پر خواجہ حارث نےکہا کہ ریفرنس میں جو کچھ لکھا گیا ہے اس میں عدالت کا قصور نہیں ہے۔

خواجہ حارث نے کہا کہ مخصوص ٹرائل کی نگرانی کےلیےکبھی نگران جج تعینات نہیں کیا گیا، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پنجاب کے لیے مجھے اےٹی سی کا نگران جج بنایا گیا تھا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ احتساب عدالتوں کےلیےبھی جج ہوتے ہیں، نگران جج کی تعیناتی کوئی نئی بات نہیں ہے،خواجہ حارث نے کہا کہ نگران جج ہوتےہیں لیکن مخصوص کیس کےلیےتعیناتی نہیں ہوتی۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ شیخ لیاقت حسین کیس میں بھی نگران جج تعینات کیاگیا،اس کیس میں بھی عدالتی ہدایات پرعملدرآمدکامعاملہ تھا۔

جسٹس اعجازافضل نے کہا کہ ٹرائل کورٹ کوآزادانہ فیصلہ کی آبزرویشن بھی دیں گے، خواجہ حارث نےمخصوص کیس کے لیےنگران جج نہ مقررکرنےکی استدعا کردی۔

خواجہ حارث نے کہا کہ چاہتےہیں نوازشریف سےبھی عام شہری جیسا برتاؤ ہو، جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ماضی میں نوازشریف کےمقدمات آتے رہے ہیں اورنوازشریف کوریلیف بھی اسی عدالت میں ملتا رہا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ یہ نہ کہیں کہ سپریم کورٹ مدعی بن گئی ہےجب بھی نوازشریف کے حقوق متاثرہوئےعدالت نے ریسکیو کیا۔

انہوں نے کہا کہ ٹرائل میں زیادتی ہوئی توسپریم کورٹ ریسکیوکرے گی ہم ہرشہری کےحقوق کاتحفظ کریں گے،جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ ہم پریقین کریں سڑکوں پرنہیں۔


اسحاق ڈار کے وکیل شاہد حامد کے دلائل


وزیرحزانہ اسحاق ڈار کے وکیل نے دلائل کا آغاز کیا تو جسٹس عظمت سعید شیخ نے سوال کیا کہ اسحاق ڈارکا پہلے وکیل کون تھا؟ جس پر شاہد حامد نےکہا کہ جےآئی ٹی سے پہلےمیں ہی ان کا وکیل تھا۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ جےآئی ٹی رپورٹ کےبعد ملک سےباہرتھا،جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ آپ کوسپریم کورٹ کےقوانین کاعلم ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ پہلےپیش ہوتےرہے اس لیے دلائل کا آغازکریں، شاہد حامد نے کہا کہ میرےپاس ریفرنس کی کاپی نہیں ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ نظرثانی 28جولائی کےحکم پرچاہتےہیں،انہوں نے کہا کہ فیصلےکےبعد واقعات کی بنیاد پرنظرثانی نہیں ہوسکتی۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ ریفرنس عدالتی فیصلےکےبعد دائرہوا ہے،جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ پاناماکیس میں نیب بطورادارہ مکمل طورپرناکام ہوا۔

جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ کیا ریاست بھی نیب کےساتھ ناکام ہوجاتی ہے،کیا پاکستان اورعدلیہ بھی نیب کےساتھ فیل ہوجائیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ عدالتیں اپنی آنکھیں بند نہیں کرسکتیں،انصاف اندھا ہوسکتاہے ججزنہیں۔ جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ آپ شاید چاہتےہیں ہم کوئی فیصلہ بھی دیں،ہم نےفیصلہ کیا توبہت خطرناک کام ہوگا۔

شاہد حامد نے کہا کہ ججزپہلے کہہ چکےہیں کہ ہم نےمحتاط زبان استعمال کی جبکہ احتیاط کےباوجود بعض حقائق کومدنظرنہیں رکھا گیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ چاہتے ہیں ہم ریفرنس میں ترمیم کریں، ریفرنس میں ترمیم ہمارااختیارنہیں اس کے لیے متعلقہ فورم سے رجوع کریں۔

انہوں نے کہا کہ نگران جج نہ ہوتا تو یہ ریفرنس بھی دائرنہ ہوتے،جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آج آپ کےخلاف فیصلہ آیاہےتوخدشات کا شکارنہ ہوں۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ آپ کی حکومت آئین اورقانون کوبدل بھی سکتی ہے، آئین پرجولکھا ہےاس پرچلیں گے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آئین پرچلنا کسی کوبرا لگتاہےتولگے، آپ کوجوشق پسند نہیں اس میں ترمیم کردیں۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ 90لاکھ کےاثاثے900 نوےلاکھ کےہوئےتوحساب مانگا گیا اور جوتین خطوط لگائےگئےان پرعرب خلیفہ کا نام بھی غلط ہے۔

جسٹس گلزاراحمد نے کہا کہ جوحساب نیب میں دیناہےوہ آپ یہاں دیناچاہتےہیں، جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ اثاثےمختصروقت میں نہیں،15سال میں بڑھے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ آپ کی بحث پرکچھ لکھا توٹرائل پراثرپڑےگا، لگتاہےکہ آپ چاہتےہیں ہم کچھ لکھیں۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ جےآئی ٹی کواسحاق ڈارسےمتعلق ہدایات نہیں دی گئی تھیں،جےآئی ٹی نےاپنےمینڈیٹ سےتجاوزکیا۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ سارامعاملہ ریکارڈ کےدوران سامنےآیا تھا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ مقدمےمیں فریق تھے اور تمام مقدمات آپس میں منسلک تھے۔

جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ آپ چاہتےہیں معاملےپرعدالت آنکھیں بندرکھتی، 15سال میں 91 گنا اضافےپرعدالت خاموش رہتی؟۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ کیا کبھی اسحاق ڈارنےاعترافی بیان کوچیلنج کیا، جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ اسحاق ڈارنے3خطوط کےعلاوہ وضاحت نہیں دی۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ہائی کورٹ کہہ چکی ہےاعترافی بیان کی کوئی اہمیت نہیں جس پرجسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ ہائی کورٹ میں اسحاق ڈارنہیں کوئی اورگیا تھا۔

شاہدحامد نے کہا کہ اسحاق ڈا باقاعدگی سےگوشوارےجمع کراتےہیں اور گوشواروں میں بیرون ملک آمدنی کی تفصیلات ظاہرکی گئی ہیں۔

جسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ قانونی نکات پربات کریں حقائق پرنہیں، ہم سےحقائق پرکیوں کچھ لکھوانا چاہتے ہیں۔

وزیرخزانی اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ ریفرنس دائرکرنےکےحکم کی قانونی بنیاد نہیں جبکہ عدالت کےدائرہ اختیارپراعتراض نہیں کیا تھا۔

جسٹس آصف سعیدکھوسہ نے کہا کہ اعتراض پہلےنہیں کیا تھا تواب کیوں کررہے ہیں جس پر اسحاق ڈار کے وکیل نے کہا کہ اعتراض کسی بھی وقت کیا جاسکتا ہے۔

جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہا کہ جواعتراض پہلےنہیں کیا گیا وہ نظرثانی پربھی نہیں ہوسکتا، جسٹس عظمت سعید نے کہا کہ عدالت کےخلاف مہم کونوازشریف اسحاق ڈارنےلیڈ کیا جیسا کروگے ویسا بھرو گے۔

وزیرخزانہ اسحاق ڈار کےوکیل نے کہا کہ عدالت کواپنی حدود طےکرنا ہوگی جس پرجسٹس عظمت سعید شیخ نے کہا کہ حدودکا تعین یہ کیس ٹوکیس ہوتا ہے۔

شاہد حامد نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ حکمران جماعت کا رشتہ دارہونا بھی کیس بنانے کے لیےکافی نہیں جبکہ آرٹیکل 10اے اسحاق ڈارکوشفاف ٹرائل کاحق دیتا ہے۔

اسحاق ڈار کے وکیل نے کہ 2016میں نیب نےتحقیقات میں اسحاق ڈارکوبےقصورقراردیا تھا،جسٹس اعجازالاحسن نے کہا کہ کیا ہمیں نیب پرمزید کچھ بولنےکی ضرورت ہے۔

واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے پاناما فیصلے کے خلاف نظرثانی درخواستوں کی سماعت کل تک ملتوی کردی،وزیراعظم کے بچوں کے وکیل سلمان اکرم راجہ کل اپنے دلائل دیں گے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top