site
stats
لائف اسٹائل

کیا آپ کو چوہوں سے ڈر لگتا ہے؟

ہم میں سے اکثر افراد چوہوں سے خوفزدہ رہتے ہیں یا ان سے کراہیت محسوس کرتے ہیں۔

چوہوں کی پھرتی، ان کی جسامت اور خطرے کی صورت میں ان کا حملہ کردینے کا امکان اچھے اچھوں کو خوف میں مبتلا کردیتا ہے یہی وجہ ہے کہ جہاں چوہا دکھائی دے لوگ اسے وہاں سے بھگانے پر تل جاتے ہیں۔

تاہم ایک فوٹوگرافر نے ان چوہوں کی زندگی کچھ آسان بنانے کے لیے ایک انوکھا کام کیا ہے۔

کینیڈین شہر مونٹریال کی رہائشی 32 سالہ ڈینی ایک عرصے سے چوہوں کو پالنے کی شوقین ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ مختلف مقامات پر مشکل میں پھنسے چوہوں کو بھی ریسکیو کر کے اپنے گھر لے آتی ہیں۔

ڈینی کا ارادہ تھا کہ ان میں سے کچھ چوہوں کو لوگوں کی جانب سے ایڈاپٹ کرلیا جائے، لیکن جب اس نے سوشل میڈیا پر اس کا اشتہار ڈالا تو لوگوں نے خاص دلچسپی نہیں دکھائی۔

اس نے اپنے دوست احباب اور جاننے والوں سے بھی چوہوں کو ایڈاپٹ کرنے کی درخواست کی لیکن زیادہ تر افراد نے اسے بتایا کہ انہیں چوہوں سے ڈر لگتا ہے یا انہیں دیکھ کر کراہیت محسوس ہوتی ہے۔

لوگوں کے اسی خوف کو دیکھتے ہوئے ڈینی نے چوہوں کی فوٹو سیریز شروع کرنے کا منصوبہ بنایا۔

ڈینی نے اس سیریز میں چوہوں کو مختلف چیزوں کے ساتھ نہایت معصوم اور خوبصورت بنا کر پیش کیا تاکہ انہیں دیکھ کر لوگوں میں ان سے ہمدردی اور محبت کا جذبہ پیدا ہو اور وہ اپنے خوف پر قابو پاسکیں۔

خود ڈینی کا چوہوں کے بارے میں خیال ہے کہ یہ کتے اور بلی کی خصوصیات رکھنے والی نہایت معصوم تخلیق ہیں۔

وہ کہتی ہے، ’چوہے ذہین ہوتے ہیں، پیار کرتے ہیں اور بہت وفادار ہوتے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ آپ کے ساتھ مختلف کھیل بھی کھیل سکتے ہیں‘۔

لیکن ان تمام خصوصیات کے باوجود ڈینی کے خیال میں ان میں ایک خرابی ہے۔

وہ خرابی یہ ہے کہ چوہوں کی عمر بہت مختصر ہوتی ہے۔ ’جب آپ کوئی چوہا پالتے ہیں تو اس سے جذباتی وابستگی محسوس کرتے ہیں۔ لیکن جب وہ چوہا اپنی طبعی عمر پوری کر کے مرجاتا ہے تو آپ اسے بہت یاد کرتے ہیں‘۔

ڈینی چاہتی ہے کہ لوگ چوہوں کو بھی دیگر جانوروں کی طرح سمجھیں اور ان سے محبت کا برتاؤ کریں۔

تو کہیئے، ان تصاویر کو دیکھ کر آپ کا چوہوں سے خوف کس حد تک کم ہوا؟


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top