site
stats
خواتین

ٹیلکم پاؤڈر رحم کے کینسر کا باعث؟

کیا ہماری روزمرہ زندگی میں استعمال کیا جانے والا ٹیلکم پاؤڈر خواتین میں رحم یا بیضہ دانی کے کینسر کا سبب بن سکتا ہے؟

کم از کم امریکی شہر لاس اینجلس کی ایک عدالتی جیوری کا تو یہی خیال ہے جس نے ٹیلکم پاؤڈر بنانے والی مقبول ترین عالمی کمپنی کو ایک 63 سالہ خاتون ایوا کو 41 کروڑ 70 لاکھ ڈالرز ادا کرنے کا حکم دیا ہے جو اس وقت جان لیوا کینسر سے لڑ رہی ہے۔

رحم کے کینسر میں مبتلا مذکورہ خاتون کی بیماری اب آخری اسٹیج پر ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ 11 برس کی عمر سے اس کمپنی کے بے بی پاؤڈر استعمال کر رہی ہیں۔

یاد رہے کہ اووری یا رحم کا کینسر دنیا بھر کی خواتین میں کینسر کے باعث موت کی سب سے اہم وجہ ہے۔

مزید پڑھیں: اووری کے کینسر کی علامات جانیں

یہ کینسر اس وقت پیدا ہوتا ہے جب رحم میں موجود خلیات خود کار طریقے سے ٹیومرز کی نشونما کرنے لگتے ہیں جو آہستہ آہستہ خطرناک اور جان لیوا صورت اختیار کرجاتے ہیں۔

اس مرض کو خاموش قاتل بھی کہا جاتا ہے کیونکہ روزمرہ زندگی میں اس کی کوئی واضح علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔

ٹیلکم پاوڈر بنانے والی اس کمپنی پر کیا جانے والا یہ مقدمہ پہلا نہیں۔ اس سے پہلے بھی کمپنی پر اس نوعیت کے کئی مقدمات درج کیے جاچکے ہیں جن میں ان کے ٹیلکم پاؤڈر کو رحم کے کینسر کا ذمہ دار ٹہرایا گیا، تاہم کمپنی نے اس نوعیت کے تمام مقدمات کو جیت لیا۔

دراصل ٹیلکم پاؤڈر اور رحم کے کینسر کے تعلق کے درمیان چوٹی کے ماہرین طب بھی تذبذب کا شکار ہیں کہ آیا واقعی ٹیلکم پاؤڈر کینسر کی اس قسم کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں۔

امریکا کے نیشنل کینسر انسٹیٹیوٹ کا کہنا ہے کہ اس سلسلے میں کی گئی تحقیقوں سے حاصل ہونے والے شواہد اتنے واضح نہیں ہیں کہ ان کی بنیاد پر یہ فیصلہ کیا جائے کہ ٹیلکم پاؤڈر ہی رحم کے کینسر کا سبب ہے۔

یاد رہے کہ ٹیلکم پاؤڈر میگنیشیئم، سیلیکون، آکسیجن اور ہائیڈروجن کے مرکبات سے بنایا جاتا ہے۔ بعض افراد ناگوار بو اور نمی کے خاتمے کے لیے انہیں جسم کے نازک  اور حساس حصوں پر بھی استعمال کرتے ہیں اور یہیں سے خرابی کا آغاز ہوتا ہے۔

ٹیلکم پاؤڈر کے اس خطرناک نقصان کو لے کر یہ بحث سنہ 1970 میں بھی شروع ہوئی جب کچھ خواتین کی اووری میں موجود ٹیومرز میں ٹیلکم پاؤڈر کے ذرات پائے گئے۔

ہارورڈ یونیورسٹی میں کی جانے والی ایک تحقیق میں بھی ٹیلکم پاؤڈر کے باقاعدہ استعمال کو اووری کے کینسر کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔

مزید پڑھیں: وٹامن ڈی بریسٹ کینسر کی شدت میں کمی کے لیے معاون

ان تمام تحقیقات کو مدنظر رکھتے ہوئے مذکورہ کمپنی کو ہدایت دی گئی تھی کہ وہ اپنی مصنوعات پر اس انتباہ کا اندراج کریں تاکہ اس ٹیلکم پاؤڈر کو استعمال کرنے والے اس کے ممکنہ نقصان سے آگاہ رہیں۔

یاد رہے کہ رواں برس امریکا میں 22 ہزار خواتین میں اوورین کینسر کی تشخیص ہوئی جن میں سے 14 ہزار اس مرض کے ہاتھوں شکست کھا کر اپنی جان کی بازی ہار گئیں۔

امریکی ریاست کنساس کی ایک ماہر طب جینیفر لوری کا کہنا ہے کہ اس ٹیلکم پاؤڈر کا ننھے بچوں پر استعمال ان میں بھی سانس کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔

دوسری جانب کچھ عرصہ قبل عالمی ادارہ صحت نے بھی تنبیہہ جاری کی کہ ٹیلکم پاؤڈر کا جسم کے نازک حصوں پر باقاعدگی سے استعمال ممکنہ طور پر سرطان کا باعث بن سکتا ہے۔

اس تمام صورتحال کو دیکھتے ہوئے بھی ماہرین سائنس و طب اس بات پر متفق ہیں کہ اس سلسلے میں مزید جامع تحقیق کی جانے کی ضرورت ہے تاکہ اس بارے میں حتمی نتائج جاری کیے جاسکیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top