site
stats
سائنس اور ٹیکنالوجی

ڈی این اے ایڈیٹنگ: پیدائش سے قبل بیماریوں کا علاج

DNA editing

اربوں سال سےجاری ارتقائی عمل دنیا میں زندگی کو آہستگی سے اور درجہ بہ درجہ تشکیل دے رہا تھا مگر اس ہفتے سائنسدانوں نےریسرچ کے ذریعے ثابت کیا کہ ڈی این اے ایڈیٹنگ کے ذریعے یہ رفتار تیز کی جا سکتی ہے۔

جنرل “نیچر” میں شائع ہونے والی بریک تھرو اسٹڈی کے مطابق جینیٹک انجینئرنگ کے جدید ترین آلات استعمال کرتے ہوئے امریکی اور کورین سائنسدانوں کی ایک ٹیم نے دنیا کی تاریخ میں پہلی دفعہ جنین (ایمبریو) میں دل کی بیماری کی جان لیوا جینیٹک خرابیوں کوخردبینی لیول پر درست کر دیا ہے۔

امریکی اور کوریائی سائنسدانوں کو پوری دنیا میں اور خاص طور پر سائنسی حلقوں میں بے پناہ پذیرائی مل رہی ہے اور کہا جارہا ہے کہ اس کارنامے سے بیماریوں کے ایمبریو لیول پر ہی علاج کے بیش بہا طریقوں کا ایک نیا باب کھل جائے گا اورانسان کی صحت پر خود انسان کے کنٹرول کی خواہش کی جانب یہ ایک بڑی پیش رفت ہوگی۔


ڈی این اے میں تبدیلی کے ذریعے’ڈیزائنربچے‘پیدا کریں


 شروع میں کئی اندیشے بھی غور طلب ہیں مثلاّ یہ کہ نہ صرف ڈی این اے کو تبدیل کرنے سے ہم انسانوں میں مستقل تبدیلیاں لا سکتے ہیں جن کا پتاشاید کئی نسلوں بعد چلے بلکہ ڈیزائنر بچوں کا اندیشہ بھی بڑھ جائے گا جہاں والدین اپنے بچوں کو خوبصورت، ہینڈسم، ذہین اور مذہبی بنوا سکیں گے؟۔

ان سب خدشوں کے ساتھ ہی ساتھ بڑی خوشخبری یہ ہے کہ اس ٹیکنالوجی سے امکان بہت بڑھ گیا ہے کہ ایک دن ہم جان لیوا بیماریوں سے نجات اور طویل عرصہ تک ایک صحت مند زندگی گزارنے کی صلاحیت بھی حاصل کرلیں گے۔

تاہم آج ہونے والی اس کامیابی سے پوری دنیا کے صرف چند لاکھ لوگ ہی فائدہ اٹھاس کیں گے کیونکہ لوگ آئی وی ایف کے ذریعے آج بھی صرف وہ بچےمنتخب کر سکتے ہیں جو مہلک جینیٹک میوٹیشنز سے پاک ہوں۔


اعضاء کی پیوند کاری۔ انسان اورجانورکے جینز کا خلطہ تیار


 سائنسداں ا سے قبل اس میدان میں پیشرفت کرتے ہوئے نیلی آنکھوں، اور شہد رنگ کے بالوں والی، صحت مند بیٹی یا بیٹا چن سکنے کی صلاحیت حاصل کرچکے ہیں۔ ڈی این اے ایڈیٹنگ کا اصل فائدہ ایسے لوگوں کو ہوگا جن کے بچے موجودہ ٹیکنالوجی سے مستفید نہیں ہو سکتے جیسے وہ والدین جنہیں کوئی پیچیدہ قسم کی بیماری ہے ان کے بچے مستقبل میں ڈی این اے ایڈیٹنگ سے صحت مند پیدا ہو سکیں گے۔.

اس ٹیکنالوجی کا ایک بہتراستعمال یہ ہوگا کہ ایک دن ہم ایک فوری ٹیسٹ سے یہ پتہ کر سکیں گے کہ کن لوگوں میں جینیٹک مئیوٹیشنز ہیں اور وہ اپنے بچوں کو یہ بیماریاں دے سکتے ہیں ‘ اس کے بعد ان والدین کے پاس پھر یہ چوائس موجود ہوگی کہ وہ اپنے بچوں کے ایمبریوز کی ڈی این اے ایڈیٹنگ کروائیں یا بغیر بچوں کے زندگی گزاریں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ [email protected] اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top