site
stats
صحت

نزلہ اور زکام 2 علیحدہ بیماریاں، فرق کیا ہے؟

کراچی: دنیا میں بسنے والا ہر دوسرا انسان نزلے اور زکام کی بیماری سے متاثر ضرور ہوا ہے تاہم ان دونوں بیماریوں میں کیا فرق ہے عام طور پر یہ کم لوگوں کے علم میں ہے۔

تفصیلات کے مطابق نزلہ اور زکام وہ بیماریاں ہیں جن سے ہر دوسرا شخص متاثر ہوتا ہے بلکہ آئے روز اس بیماری میں مبتلا ہوتا ہے، کیا آپ جانتے ہیں کہ ان دونوں بیماریوں میں فرق ہے۔

عام طور پر انسان سرد موسم میں ان دونوں بیماریوں سے متاثر ہوتا ہے، سرد علاقوں میں رہنے والے افراد جن کا قوتِ مدافعت مضبوط ہوتا ہے اُن کے جسم پر اس کا اثر نہیں ہوتا اس کے برعکس قدرتی طور پر کمزور افراد اس بیماری سے اثر انداز ہوجاتے ہیں۔

ان دونوں بیماریوں سے متاثرہ شخص سے جب خیریت دریافت کی جائے تو اُس کا جواب ہوتا ہے کہ نزلہ زکام ہوا ہے تاہم دلچسپ امر یہ ہے کہ عام طور پر ایک سمجھی جانے والی بیماری ایک دوسرے سے مختلف ہے تاہم ان کی علامات ایک جیسی ہیں۔

نزلہ

نزلے کا وائرس عام طور پر سردی میں انسان کو متاثر کرتا ہے اور کمزور قوتِ مدافعت والا شخص اس بیماری میں فوری مبتلاء ہوجاتا ہے۔

بخار

نزلہ عام طور پر وائرس انفیکشن ہے، جو شخص اس وائرس سے متاثر ہوتا ہے اُسے معمولی بخار ہوجاتا ہے۔

ناک کا بہنا

نزلے میں عام طور پر انسان کی ناک بہتی ہے اور گلے میں خراشیں پڑ جاتی ہیں۔

تھکاوٹ

نزلے میں متاثرہ شخص کو ہلکی سی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے۔

کھانسی

نزلے کی صورت میں بلغمی اور خشک دونوں اقسام کی کھانسی ہوتی ہے

چھینکیں

نزلے میں چھینکیں آتی ہیں جس کے ذریعے وائرس دوسرے شخص میں منتقل ہوتا ہے۔

زکام

عام طور پر زکام نزلے سے زیادہ خطرناک ہوتا ہے اس لیے درج ذیل علامات ظاہر ہوتے ہی فوری طور پر ڈاکٹر سے رجوع کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔

بخار

زکام کی صورت میں انسان تیز بخار میں مبتلاء ہوجاتا ہے جس کے باعث سر اور جسم میں شدید درد محسوس ہوتا ہے۔

ناک کا بہنا

زکام میں بھی نزلے کی طرح متاثرہ شخص کی ناک بہتی ہے تاہم  اس صورت میں بلغم ریشے کی صورت میں ناک میں جمع ہوجاتا ہے جس کے باعث سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے۔

تھکاوٹ       

نزلے میں مریض کو ہلکی تھکاوٹ محسوس ہوتی ہے جبکہ زکام میں تھکن کا احساس بہت زیادہ ہوتا ہے۔

کھانسی

زکام میں بلغمی کھانسی ہوتی ہے جبکہ نزکے کی صورت میں خشک کھانسی بھی ہوتی ہے۔

چھینکیں

زکام کے متاثرہ مریض سے وائرس دوسرے انسان تک منتقل ہوجاتا ہے تاہم یہ بیماری نزلے سے زیادہ خطرناک ہوتی اس لیے علامات ظاہر ہوتے ہی ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہیے۔

چونکہ ہم دونوں بیماریوں کو ایک سمجھتے ہیں اس لیے عام طور پر ایک مفروضہ عام ہے کہ بیماری سات روز کے اندر خود بہ خود ختم ہوجاتی ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top