site
stats
خواتین

اسکول کے ساتھیوں نے کمسن دلہن کو جبری شادی سے نجات دلا دی

نئی دہلی: بھارت میں جبری شادی کا شکار ایک 16 سالہ دلہن کو اس کے اسکول کے ساتھیوں نے ڈھونڈ نکالا اور اسے اپنے ساتھ لے گئے۔

بھارت کے شہر جے پور کے ایک چھوٹے سے قصبے کی رہائشی 16 سالہ لڑکی کو اسکول سے زبردستی اٹھا کر دگنی عمر کے ایک شخص سے بیاہ کر قریبی گاؤں بھیج دیا گیا تھا۔

جب اس کے اسکول کے ساتھیوں کو اس کی شادی کا علم ہوا تو انہوں نے اس کے گھر والوں سے اس کا پتہ پوچھا، تاہم ان کے انکار پر وہ خود ہی کسی طرح ڈھونڈ کر اس کے گھر پہنچ گئے۔

وہاں اس لڑکی نے انہیں بتایا کہ وہ اپنے شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی اور مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتی ہے جس کے بعد بچوں کا ہجوم اسے اپنے ساتھ شہر لے گیا۔

مزید پڑھیں: نیپال میں ہندو پجاری کم عمری کی شادیوں کے خلاف ڈٹ گئے

کمسن طالب علموں نے پولیس کو شکایت درج کروانے کی کوشش کی تاہم پولیس نے ان کی بات سننے سے نکار کردیا۔ بعد ازاں ایک تنظیم کی مدد سے یہ بچے فیملی کورٹ جا پہنچے جہاں لڑکی نے اپنی شادی کو کالعدم قرار دینے کی درخواست کردی۔

اس کے ساتھ ہی اس نے اپنی منقطع تعلیم کا سلسلہ بھی دوبارہ شروع کردیا اور اسکول واپسی پر اس کا پرجوش استقبال کیا گیا۔

یاد رہے کہ بھارت میں قانونی طور پر لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سال ہے تاہم ہر سال لاکھوں لڑکیاں اس عمر سے قبل ہی بیاہ دی جاتی ہیں۔

بچوں کے لیے کام کرنے والی اقوام متحدہ کی ذیلی شاخ یونیسف کے مطابق ہر سال دنیا بھر میں ڈیڑھ کروڑ شادیاں ایسی ہوتی ہیں جن میں دلہن کی عمر 18 سال سے کم ہوتی ہے۔ ترقی پذیر ممالک میں ہر 3 میں سے 1 لڑکی کی جبراً کم عمری میں شادی کر جاتی ہے۔

مزید پڑھیں: کم عمری کی شادیاں پائیدار ترقی کے لیے خطرہ

کم عمری کی شادی کا سب سے بڑا نقصان یہ ہے کہ لڑکیاں چاہے جسمانی اور ذہنی طور پر تیار نہ ہوں تب بھی وہ حاملہ ہوجاتی ہیں۔ کم عمری کے باعث بعض اوقات طبی پیچیدگیاں بھی پیش آتی ہیں جن سے ان لڑکیوں اور نوزائیدہ بچوں کی صحت کو شدید خطرات لاحق ہوجاتے ہیں۔

علاوہ ازیں کم عمری کی شادیاں لڑکیوں میں بے شمار بیماریوں کا سبب بنتی ہے جو تاحیات ان کے ساتھ رہتی ہیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top