site
stats
حیرت انگیز

سجی سجائی دلہن کے معاشرتی تصور پر سوال اٹھاتی سادگی پسند دلہن

شادی کا دن زندگی کا یادگار دن ہوتا ہے اور دلہا و دلہن اس دن کے لیے خصوصی تیاریاں کرتے ہیں جس میں شادی کا جوڑا نہایت اہم حیثیت رکھتا ہے۔

تاہم ایک خاتون ایسی بھی ہیں جن کی شادی عروسی لباس، زیورات یا میک اپ کے بغیر انجام پائی۔

بنگلہ دیش سے تعلق رکھنے والی تسنیم نامی یہ خاتون سماجی کارکن ہیں جنہوں نے اپنی شادی کے لیے کسی خاص تیاری کا اہتمام نہیں کیا۔

اپنی شادی کے دن انہوں نے اپنی دادی کی کاٹن کی ساڑھی زیب تن کی اور بنا میک اپ اور زیورات کے شادی کی رسومات انجام دیں۔

ان کے اس اقدام پر ان کے دوست، احباب اور عزیزوں نے بے حد تنقید کی جس کا انہوں نے ایسا متاثر کن جواب دیا جس پر سب کی زبانیں بند ہوگئیں۔

سوشل میڈیا پر ایک طویل پوسٹ کی صورت میں انہوں نے اپنے اس اقدام کی وجہ پیش کی۔

اپنی پوسٹ میں ان کہنا تھا، ’میں اپنے معاشرے میں رائج دلہن کے اس تصور سے سخت الجھن کا شکار تھی جس میں دلہن کا میک اپ کی دبیز تہوں، منوں زیورات اور بھاری بھرکم لباس میں ملبوس ہونا ضروری سمجھا جاتا ہے۔ ان تمام چیزوں میں بہت رقم خرچ ہوتی ہے اور بظاہر یوں لگتا ہے کہ اسے کرنے والے خوشحال ہیں جنہوں نے باآسانی رقم کے اس اصراف کو برداشت کرلیا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے‘۔

ان کا کہنا تھا، ’بہت سے لوگ ایسا نہیں کرنا چاہتے، یا اس کی استطاعت نہیں رکھتے لیکن معاشرے کے خوف سے ایسا کرنے پر مجبور ہیں‘۔

تسنیم نے لکھا، ’میں نے آج تک ایسی کسی شادی میں شرکت نہیں کی جہاں لوگ یہ سرگوشیاں نہ کرتے ہوں، ’کیا دلہن خوبصورت لگ رہی ہے؟ اس کا لباس کتنی قیمت کا ہے؟ اس نے کتنا سونا پہنا ہوا ہے؟‘ اس قسم کی باتوں کو سنتے ہوئے ایک لڑکی اس دباؤ کا شکار ہوجاتی ہے کہ اپنی شادی کے دن اسے بے حد خوبصورت لگنا ہے جس کے لیے وہ بے تحاشہ رقم، وقت اور توانائی صرف کرتی ہے، اور یوں لگتا ہے کہ اس کی اپنی شخصیت کوئی حیثیت نہیں رکھتی‘۔

وہ کہتی ہیں، ’معاشرہ ہر لڑکی کو یہ احساس دلاتا ہے کہ اس کا اصل چہرہ اور رنگت اس کے دلہن بننے کے لیے کافی نہیں اور لاکھوں کے زیورات اور لباس اس کے لیے ضروری ہیں۔ گویا ہمارے معاشرے نے یہ طے کرلیا ہے کہ اگر خواتین پر کچھ خرچ بھی کیا جائے گا، تو وہ ان کی مرضی کے بغیر ہی کیا جائے گا‘۔

تسنیم نے کہا، ’میں نے بزرگ خواتین سے ہمیشہ سنا ہے کہ ایک دلہن زیورات کے بغیر ادھوری ہوتی ہے۔ بعض لوگ یہ بھی کہتے ہیں کہ دلہن کے زیورات سے اس کے خاندان کی حیثیت کا اندازہ ہوتا ہے۔ آج تک کوئی لڑکی یہ سوال اٹھانے کی جرات نہیں کر سکی کہ کہ جو بیش قیمت سونا اسے پہنایا جارہا ہے، کیا وہ اسے مستقبل میں ایک پروقار زندگی بھی دے سکتا ہے یا نہیں‘؟

انہوں نے ایک اور پہلو کی طرف اشارہ کیا کہ بھاری رقم خرچ کر کے بنایا جانے والا عروسی لباس شادی کی تقریب ختم ہونے کے بعد عموماً ساری زندگی ایسا ہی رکھا رہتا ہے اور دوبارہ استعمال نہیں کیا جاسکتا۔ ’چند گھنٹوں کے لیے لاکھوں خرچ کرنا کہاں کی دانشمندی ہے‘؟

تسنیم کا کہنا تھا کہ ایسا نہیں کہ انہیں میک اپ یا زیورات پسند نہیں۔ ناپسندیدہ دراصل وہ سوچ ہے جو ایک لڑکی کو یہ سوچنے پر مجبور کرتے ہیں کہ اگر اپنی شادی کے دن اس نے ان مصنوعی اشیا کا سہارا نہ لیا تو اس کی اصل شکل و صورت اس کی شادی کے لیے کافی نہیں۔

بقول تسنیم، اسی سوچ کو تبدیل کرنے کے لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ وہ اپنی شادی میں نہایت سادہ روپ اختیار کریں گی۔ ’یہ بظاہر سادگی لگتی ہے۔ لیکن یہی میرے لیے سب سے خاص ہے‘۔

تسنیم نے یہ بھی کہا کہ ان کے اس فیصلے کے بعد ان کے خاندان نے ان کی بے حد مخالفت کی۔ بعض لوگوں نے یہ تک کہا کہ وہ اتنی سادہ دلہن کے ساتھ تصویر نہیں کھنچوائیں گے، لیکن ان کے شوہر نے ان کی حوصلہ افزائی کی اور معاشرے میں رائج ان بے مقصد روایات و خیالات کے خلاف آواز اٹھانے میں ان کی بھرپور مدد کی۔

ہمارے معاشروں میں قائم وقت اور رقم ضائع کرنے والی ان رسوم و روایات کے خلاف آواز اٹھاتی یہ سادہ سی دلہن ہمیں تو بہت پسند آئی، آپ کو کیسی لگی؟


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ [email protected] اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top