site
stats
صحت

کھانا کھانے کے بعد یہ 6 کام آپ کو ہلاک کرسکتے ہیں

ہم اپنی روزمرہ زندگی میں لاشعوری طور پر ایسے بے شمار کام کرتے ہیں جو ہماری صحت کے لیے مضر ہوتے ہیں مگر ہم ان سے واقف نہیں ہوتے۔ آہستہ آہستہ یہ ہماری عادات بن جاتی ہیں اور یہی عادات آگے چل کر ہماری صحت پر خطرناک اثرات مرتب کرتی ہیں۔

ایسی ہی کچھ عادات ایسی ہیں، جو ہم کھانا کھانے کے بعد انجام دیتے ہیں اور وہ ہمارے لیے جان لیوا ثابت ہوسکتی ہیں۔ آئیں دیکھتے ہیں وہ کون سی عادات ہیں۔

چائے پینا

چائے کے شوقین افراد کھانے کے فوراً بعد چائے پینا پسند کرتے ہیں۔ یہ عادت ہمارے نظام ہضم پر خطرناک طریقے سے اثر انداز ہوتی ہے۔

خاص طور پر اگر ہمارے کھانے میں پروٹین شامل ہو تو چائے اس کے اجزا کو سخت کردیتی ہے نتیجتاً یہ مشکل سے ہضم ہوتے ہیں۔ ماہرین کا مشورہ ہے کہ کھانے سے ایک گھنٹہ قبل اور بعد میں چائے سے گریز کیا جائے۔

چہل قدمی کرنا

چہل قدمی کرنا ویسے تو کھانا ہضم کرنے کا بہترین طریقہ ہے لیکن اسے کھانے کے فوراً بعد نہیں کرنا چاہیئے۔ کھانے کے فوراً بعد چہل قدمی جسم میں تیزابیت پیدا کرتی ہے۔

کھانے اور چہل قدمی کے درمیان کم از کم آدھے گھنٹے کا وقفہ ہونا چاہیئے۔

پھل کھانا

کھانے کے فوراً بعد پھل کھانا بھی ہاضمے کے مسائل پیدا کرسکتا ہے۔ پھلوں کے سخت اجزا کو ہضم کرنے کے لیے ضروری ہے کہ آپ کا نظام ہضم کام کرنے کے قابل ہو۔ کھانا اور پھل کھانے کے درمیان بھی 30 سے 40 منٹ کا وقفہ ہونا چاہیئے۔

غسل کرنا

غسل کرنا جسم میں خون کی روانی کو تیز کرتا ہے۔ ہاضمے کے عمل دوران خون آپ کے معدے کے گرد رواں رہتا ہے۔ اگر آپ کھانے کے فوراً بعد نہائیں گے تو خون کی روانی صرف معدے کے بجائے پورے جسم میں ہوگی اور یہ ہاضمہ کے عمل کو سست کرے گا۔

قیلولہ

کھانے کے فوراً بعد قیلولہ کرنے یا لیٹنے سے بھی گریز کرنا چاہیئے۔ لیٹنے سے ہاضمہ کا جوس ہضم ہونے کے بجائے واپس معدے میں چلا جاتا ہے جو تیزابیت پیدا کرسکتا ہے لہٰذا کھانے کے فوراً بعد لیٹنے سے پرہیز کیا جائے۔

سگریٹ نوشی

سگریٹ نوشی یوں تو ایک مضر عادت ہے لیکن کھانے کے فوراً بعد سگریٹ پینا جان لیوا ثابت ہوسکتا ہے۔ یہ آپ کے ہاضمے کے پورے عمل کو تباہ کرسکتا ہے۔ لہٰذا کھانے اور سگریٹ نوشی کے درمیان کم از کم ایک گھنٹے کا وقفہ رکھیں۔

ایک فائدہ مند عادت

کھانے کے فوراً بعد نیم گرم پانی پینا صحت اور ہاضمہ کے لیے بہترین ہے۔ کھانے کے بعد آئس کریم، سافٹ ڈرنک یا چائے کی جگہ نیم گرم پانی پیا جاسکتا ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly
Please follow and like us:

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ [email protected] اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top