site
stats
صحت

معمولی عادات اپنا کر جلدی مسائل سے چھٹکارا حاصل کریں

جلد کےو تروتازہ رکھنے اور اس کے مسائل سے بچنے کے لیے عام طور پر لوگ مہنگی ادویات اور کریم استعمال کرتے ہیں، جس کی وجہ سے کئی بار نقصان کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔

ہر شخص کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ جاذب نظر آئے اور لوگ اُس کو دیکھ کر متاثر ہوں، اس ضمن میں لوگ اپنے طور پر احتیاطی تدابیر استعمال ضرور کرتے ہیں تاہم کیا آپ جانتے ہیں کہ معمولی عادتوں کو اپنا کر چہرے کی جلد کو تروتازہ رکھا جاسکتا ہے۔

جلد کے مسائل پر معمولی عادات کے ذریعے باآسانی قابو پایا جاسکتا ہے، ماہرین کا کہنا ہے کہ روزانہ کم از کم 10 گلاس پانی پینے سے چہرے کی جلد بالکل تروتازہ نظر آتی ہے۔

درج ذیل عادات کو اپنائیں

ہرگھنٹے بعد اور دن بھر میں 8 سے 10 گلاس پانی پینے سے جلد چمک دار اور تروتازہ نظر آتی ہے، اس عمل کو پانی کی تھراپی کہا جاتا ہے جس کے ذریعے جسم کا اندرونی حصہ اور میٹابولیزم کا نظام بہتر ہوتا ہے۔

صحت مند غذائیں، تازہ پھلوں، ہری سبزیوں، گری دار میوے اور اومیگا کا استعمال اور تلی ہوئی چیزیں کھانے سے احتیاط کریں۔

روزانہ کی بنیاد پر ورزش ذہنی دباؤ کو ختم کرتی ہے اور آپ کو اکسیجن مہیا کرتی ہے جس کی وجہ سے جلد کے خلیات مزید صحت مند ہوتے ہیں اور پھر آپ تروتازہ نظر آتے ہیں۔

چہرے کو چھونے سے آپ انفکیشن کو دعوت دیتے ہیں لہذا اپنے ہاتھ دھوئے صابن سے دھوئے بغیر چہرے کو ہاتھ نہ لگائیں۔

چہرے پر نکلنے والے کیل مہاسوں کو ناخن سے دبا کر ختم نہ کریں کیونکہ ایسا کرنے کی صورت میں وہ ختم ضرور ہوجاتے ہیں مگر آپ کے چہرے پر نشان چھوڑ دیتے ہیں۔

اگر آپ انفکیشن سے بچنا چاہتے ہیں تو کسی اور کا تولیہ استعمال نہ کریں بلکہ اپنے استعمال کے لیے علیحدہ سے مخصوص تولیہ رکھیں اور اُسے زیادہ سے زیادہ چار دن میں تبدیل کردیں۔

سونے سے پہلے اچھی طرح سے منہ دھویں تاکہ دل بھر چہرے پر لگی ہوئی غبار اور میک اپ اتر جائے، ایسا نہ کرنے کی صورت میں آپ کے چہرے پر دانے پیدا ہوسکتے ہیں۔

روزانہ صبح ناریل کے تیل میں لیموں کے چند قطرے ڈال کر اسے چہرے پر لگائیں اور پھر منہ دھو لیں یہ عمل کرنے سے آپ کا چہرہ دن بھر تروتازہ نظر آئے گا۔

نوٹ: جلدی امراض کا شکار افراد اپنے طبیب کے مشورے کے بعد ان عادات کو اپنائیں۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top