site
stats
صحت

کراچی میں انسداد پولیو مہم، 18 لاکھ بچوں کو پولیو سے بچانے کا ہدف

کراچی: صوبہ سندھ کے دارالحکومت کراچی میں 3 روزہ انسداد پولیو مہم کا آغاز ہوگیا۔ کمشنر کراچی اعجاز احمد خان نے گزری کے ایم سی میٹرنٹی ہوم میں بچوں کو پولیو کے قطرے پلا کر مہم کا آغاز کیا۔

کمشنر کراچی اعجاز احمد خان نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ یہ دوسری سب نیشنل پولیو مہم ہے جس میں 18 لاکھ سے زائد بچوں کو شامل کیا گیا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ 161 یونین کونسل میں انسداد پولیو مہم شروع کی گئی ہے۔ مہم میں 7 ہزار سے زائد ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں جبکہ ان کی سیکیورٹی کے لیے رینجرز اور پولیس کے 5 ہزار 7 سو اہلکار سیکیورٹی کے فرائض انجام دیں گے۔

مزید پڑھیں: پشاور سے پولیو وائرس کا خاتمہ

کمشنر کا کہنا تھا کہ گزشتہ ڈیڑھ سال سے کراچی میں پولیو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔

یاد رہے کہ رواں برس کراچی میں 80 ہزار سے زائد بچے پولیو کے قطرے پینے سے محروم رہ گئے تھے۔

کچھ عرصہ قبل وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت ہونے والے اجلاس میں انکشاف ہوا تھا کہ رواں برس کراچی میں 80 ہزار سے زائد بچے پولیو ویکسین لینے سے محروم رہ گئے جس کا سبب ان کے والدین کا پولیو ویکسین پلوانے کا انکار تھا۔

وزیر اعلیٰ کو آگاہ کیا گیا کہ کراچی کے علاقوں مچھر کالونی اور سہراب گوٹھ میں اب بھی پولیو وائرس موجود ہے۔

مزید پڑھیں: بلوچستان میں پولیو کا ایک اور کیس سامنے آگیا

اس موقع پر وزیر اعلیٰ نے احکامات جاری کیے کہ جو والدین اپنے بچوں کو پولیو ویکسین پلانے سے انکاری ہیں ان کی کونسلنگ کا کوئی پروگرام بنایا جائے۔ ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ اور پولیو پروگرام مل کر کراچی سے پولیو وائرس کے خاتمے کے لیے جنگی بنیادوں پر اقدامات کرے۔

دوسری جانب صوبہ بلوچستان میں پولیو وائرس کے ایک اور کیس کی تصدیق ہوگئی جس کے بعد پاکستان میں رواں برس پولیو کیسز کی تعداد 3 ہوگئی ہے۔

پاکستان میں انسداد پولیو کے لیے سرگرم ادارے اینڈ پولیو پاکستان کے مطابق مذکورہ کیس کے بعد سال 2017 میں اب تک پاکستان میں 3 پولیو کیسز کی تصدیق ہوگئی ہے جن میں ایک پنجاب اور ایک گلگت بلتستان میں ہے۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly
Please follow and like us:

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ [email protected] اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top