site
stats
ضرور پڑھیں

مسجدِ اقصیٰ میں اسرائیلی سیکیورٹی‘ مسلمانوں کا داخلے سے انکار

al aqsa mosque

یروشلم: اسرائیل نے مسجدِ اقصیٰ ایک بار پھر مسلمانوں کے لیے کھول دی ہے ‘ تاہم نئے سیکیورٹی اقدامات کی موجودگی میں مسلمانوں نے مسجد میں جانے سے انکار کردیا ہے‘ مسجد اقصیٰ دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے قتل کے بعد بند کی گئی تھی۔

تفصیلات کے مطابق جمعے کے روز دو اسرائیلی پولیس اہلکاروں کے قتل کے بعد بند ہونے والی مسجدِ اقصیٰ مسلمانوں کے لیے کھول دی گئی، اس موقع پر نماز کے لیے جمع ہونے والے افراد نے مسجد میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور ’’اللہ واکبر‘‘ کے نعرے بلند کیے۔

پولیس کے مطابق واقعے کے مسجدِ اقصیٰ میں مانیٹرنگ کے لیے کیمرے لگائے گئے ہیں اور دو دروازے داخلے کے لیے مختص کرکے ان پر میٹل ڈٹیکٹر واک تھرو گیٹ نصب کیے گئے ہیں۔

ذرائع کے مطابق مسجد سے نماز کے لیے اذان دی گئی تھی درجنوں نمازیوں نے نئے سیکیورٹی انتظامات کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے مسجد میں داخل ہونے سے انکار کیا اور لگ بھگ 150 افراد نے احتجاجاً مسجد کے باہر نماز ادا کی۔

مسجدِ اقصیٰ کے ڈائریکٹر شیخ عمر قصوانی نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے اسرائیلی حکونت کی جانب سے کیے گئے انتظامات کو رد کردیا‘ انہوں نے کہا کہ ہم ان میٹیل ڈٹیکٹرز سے گزر کر مسجد میں داخل نہیں ہوں گے۔ ان کا موقف تھا کہ اس قسم کی چیزیں کسی بھی عبادت گاہ یا مسجد کے سامنے نہیں ہونی چاہیئے ہیں۔

دن ڈھلے ایک میت بھی نمازِ جنازہ کی ادائیگی کے لئے مسجد ِ اقصیٰ لائی گئی تاہم حکام نے اسے داخلے کی اجازت دینے سے انکار کردیا۔

اسرائیلی میڈیا کے مطابق تین عرب حملہ آوروں نے جمعے کے روز پولیس اہلکاروں کو نشانہ بنایا جس کے بعد وہ پرانے شہر میں واقع کمپاؤنڈ کی جانب فرار ہوئے جہاں مسجدِ اقصیٰ اور بیت المقدس واقع ہیں‘ تاہم سیکیورٹی فورسز نے انہیں راستے میں قتل کردیا۔ اسرائیلی حکام کا الزام ہے کہ یہ حملہ آور مسجدِ اقصیٰ کی طرف سے آئے تھے‘ اور اس واقعے کو یروشل میں ہونے والا اب تک کا سب سے سنگین واقعہ قراردیا جارہا ہے۔

اسرائیل نے اس واقعے کےبعد مسجدِ اقصیٰ کو بند کرنے کا غیر متوقع فیصلہ کیا جس سے مقامی مسلمانوں غم و غصے کی لہر دوڑ گئی جب کے اردن جو کہ مسجدِ اقصیٰ کا باقاعدہ متولی ہے ‘ اس کی جانب سے بھی اس فیصلے پر ناراضی کا اظہار کیا گیا تھا۔


اگرآپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اوراگرآپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پرشیئرکریں۔

Print Friendly
Please follow and like us:

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ [email protected] اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top