site
stats
انٹرٹینمںٹ

آؤ مل کر بنائیں پاکستان: میوزک انڈسٹری کی ترقی کے لیے اے آر وائی کی بہترین کاوش

کراچی: اے آر وائی فلم فیسٹیول کے کامیاب انعقاد کے بعد اب اے آر وائی نیٹ ورک پاکستان کی میوزک انڈسٹری کی ترقی کے لیے کوشاں ہے اور اس مقصد کے لیے ایک اچھوتے پروگرام ’آؤ مل کر بنائیں پاکستان‘ کا آغاز کردیا گیا ہے۔

اے آر وائی نیٹ ورک کے تحت شروع کیے جانے والے اس پروگرام کا مقصد گلوکاروں، موسیقاروں اور آرٹ کی دیگر صنف سے جڑے ملک بھر میں پھیلے نئے ٹیلنٹ کو سامنے لانا ہے۔

یہی نہیں اے آر وائی اپنے ملک کے منجھے ہوئے، عظیم اور باصلاحیت فنکاروں کو بھی نہیں بھولا جنہوں نے دنیا بھر میں ملک کا نام روشن کیا اور اب وہ بھی اس پروگرام کا حصہ ہیں۔

اے آر وائی کے اس پروگرام کا ایک مقصد پائریسی (جعلی طریقوں سے میوزک و فلموں کا انٹرنیٹ پر آجانا) کی روک تھام کرنا اور درست طریقے سے آرٹ کو فروغ دینا بھی ہے تاکہ نئے ٹیلنٹ کی نہ صرف حوصلہ افزائی ہو بلکہ انہیں ان کے فن اور محنت کا معاشی صلہ بھی ملے۔

اے آر وائی میوزک کے زیر اہتمام شروع کی جانے والی اس مہم کے تحت باصلاحیت فنکاروں کے گانوں کی ویڈیوز کو آے آر وائی نیٹ ورک کے تمام پلیٹ فارمز بشمول ٹی وی چینلز، سوشل میڈیا صفحات اور ویب سائٹس پر مشتہر کیا جائے گا تاکہ نیا ٹیلنٹ زیادہ سے زیادہ ابھر کر سامنے آسکے۔

علاوہ ازیں ان نئے فنکاروں کو اے آر وائی نیٹ ورک ٹی وی کے مختلف پروگرامز میں بھی مدعو کیا جائے گا۔

اگر آپ بھی گلوکار ہیں تو آپ بھی اس نادر موقع سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں اور دنیا کو اپنے فن سے روشناس کروا سکتے ہیں۔

بس اس کے لیے آپ کو اپنی آواز میں ریکارڈ شدہ گانا یا میوزک کمپوزیشن، اپنا نام اور دیگر تفصیلات اس ای میل ایڈریس پر روانہ کرنی ہوں گی۔

[email protected]

دوسری جانب اے آر وائی نیٹ ورک کے سربراہ سلمان اقبال نے اپنے پیغام میں عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ بھی اس مہم کا حصہ بنیں، نہ صرف اپنے آس پاس موجود فنکاروں کو اس پروگرام کے بارے میں بتائیں، بلکہ دیگر باصلاحیت افراد کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں ووٹنگ بھی کریں۔

ووٹنگ کے لیے اس لنک پر کلک کریں

سلمان اقبال کا کہنا ہے، ’ایک عہد، ایک جستجو، پاکستان کی میوزک انڈسٹری کے لیے ۔ آؤ مل کر بنائیں پاکستان‘۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top