site
stats
اہم ترین

دوسرا ٹی ٹوئنٹی: ہاشم آملہ کی شاندار بیٹنگ، ورلڈ الیون کو فتح

لاہور : ہاشم آملہ اور پریرا کی شاندار بیٹنگ کی بدولت ورلڈ الیون نے دوسرے ٹی ٹوئنٹی میچ میں پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دے دی، پریرا کو شاندار بیٹنگ کرنے پر مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق آزادی کپ کا دوسرا میچ قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا گیا، ورلڈ الیون سیریز برابر کرنے کے لیے مکمل تیاری کے ساتھ میدان میں اتری جبکہ شاہین بھی جیت کا عزم لیے اسٹیڈیم میں موجود تھے۔

پاکستان نے ٹاس جیتنے پر پہلے بیٹنگ کی اور مقررہ 20 اوورز میں 174 رنز اسکور کر کے ورلڈ الیون کو جیت کے لیے 175 رنز کا ہدف دیا، پاکستان کی جانب سے بابر اعظم 45 رنز بنا کر نمایاں بلے باز رہے جبکہ احمد شہزاد 45 رنز بنا کر دوسرے اور شعیب ملک 39 رنز بنا کر تیسرے نمایاں بلے باز رہے۔

پہلی اننگز کی جھلکیاں

ورلڈ الیون کی جانب سے سیموئل بدری اور پریرا نے دو دو جبکہ عمران طاہر نے ایک کھلاڑی کو پویلین کی راہ دکھائی، پاکستان کو اوپننگ شراکت اچھی ملی تاہم سرفراز الیون کو 41 کے مجموعی اسکور پر پہلی وکٹ کے نقصان کا سامنا کرنا پڑا۔

ہدف کے تعاقب میں ورلڈ الیون نے بیٹنگ کا آغاز کیا تو 47 کے مجموعی اسکور پر تیمیم اقبال پویلین روانہ ہوئے جبکہ 71 کے مجموعی اسکور پر پین اور 106 کے مجموعی اسکور پر ڈوپلسی پویلین لوٹے۔

ورلڈ الیون کے اوپنر ہاشم آملہ نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے 55 بالز پر 72 رنز بنائے جبکہ اُن کا ساتھ دینے والے پریرا نے بھی جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے 19 گیندوں پر 46 رنز بنائے اور اپنی ٹیم کو شکست سے بچایا۔

دوسرے میچ میں ورلڈ الیون کی جیت کے بعد سیریز ایک ایک سے برایر ہوگئی، سیریز کا اگلا میچ 15 ستمبر کو لاہور کے قذافی اسٹیڈیم میں کھیلا جائے گا۔

ورلڈ الیون اننگز

بیسویں اور آخری اوور میں میچ سنسنی خیز مرحلے میں داخل ہوا تاہم پریرا اور ہاشم آملہ کی عمدہ بیٹنگ کی بدولت ورلڈ الیون نے پاکستان کو 7 وکٹوں سے شکست دی۔

انیسویں اوور میں ورلڈ الیون کے بلے بازوں نے سہیل خان کی فل ٹاس کا بھرپور فائدہ اٹھایا اور مجموعی اسکور کو 162 تک پہنچایا۔

اٹھارویں اوور میں ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور 142 تک پہنچا، آخری دو اوورز میں مخالف ٹیم کو جیت کے لیے 33 رنز درکار تھے۔

سترہویں اوور میں ورلڈ الیون کے بلے بازوں نے مجموعی اسکور میں 10 رنز کا اضافہ کیا جس کے بعد مجموعی اسکو تین وکٹوں کے نقصان پر 134 تک پہنچا۔

سولہویں اوور میں ہاشم آملہ نے دو بار گیند کو باؤنڈری کی راہ دکھائی جس کے بعد مجموعی اسکور 12 رنز اضافے کے بعد 124 تک پہنچا۔

پندرہویں اوور میں ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور 6 رنز اضافے کے بعد 112 تک پہنچا۔

چودہویں اوور کی دوسری بال پر ہاشم آملہ نے نصف سنچری مکمل کی انہوں نے 38 گیندوں کا سامنا کر کے 51 رنز بنائے، گیند کو باؤنڈری کے باہر بھیجنے کے چکر میں ڈوپلسی 20 رنز بنا کر کیچ آؤٹ ہوئے، یوں ورلڈ الیون کو 106 کے مجموعی اسکور پر 3 وکٹوں کا سامنا کرنا پڑا۔

تیرہویں اوور میں بھی ورلڈ الیون کے کھلاڑیوں نے جارحانہ کھیل پیش کیا اور اسکور کو 96 تک پہنچایا۔

بارہویں اوور میں ورلڈ الیون کے بلے بازوں نے ایک 6 کی مدد سے 8 رنز حاصل کیے جس کے بعد مجموعی اسکور دو وکٹوں کے نقصان پر 89 تک پہنچا۔

شاہینوں نے گیارہویں اوور میں بھی ورلڈ الیون کو پریشر میں رکھا اس لیے مخالف ٹیم صرف 6 رنز حاصل کرسکی، اوور اختتام پر مجموعی اسکور دو وکٹوں کے نقصان پر 78 تک پہنچا۔

دسویں اوور میں عماد وسیم نے ٹم پین کو چکما دیا اور کلین بولڑ کر کے پویلین کی راہ دکھائی، انہوں نے 12 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 10 رنز اسکور کیے، اوور اختتام پر ورلڈ الیون نے دو وکٹوں کے نقصان پر 72 رنز اسکور کیے۔

شاداب خان کے پہلے اور اننگز کے 9ویں اوور میں ہاشم آملہ کے ایک چھکے کے باعث 10 رنز کا اضافہ ہوا، یوں اس کے اختتام پر مخالف ٹیم نے 1 وکٹ کے نقصان پر 70 رنز بنائے۔

اننگز کا 8واں اوور عماد وسیم نے کیا جس میں صرف 4 رنز کا اضافہ ہوا، اوور اختتام پر ورلڈ الیون نے 60 رنز اسکور کیے۔

ساتواں اوور محمد نواز نے کیا جس میں ورلڈ الیون 7 رنز بنا سکی، اوور اختتام پر ایک وکٹ کے نقصان پر مجموعی اسکور 56 تک پہنچا۔

چھٹے اوور میں 45 کے مجموعی اسکور پر ورلڈ الیون کی پہلی وکٹ گری، سہیل خان کی گیند پر شعیب ملک نے عمدہ کیچ کر کے تمیم اقبال کو پویلین کی راہ دکھائی انہوں نے 19 گیندوں کا سامنا کر کے 23 رنز اسکور کیے، اوور اختتام پر مخالف ٹیم نے ایک وکٹ کے نقصان پر 49 رنز اسکور کیے۔

رومان رئیس نے اننگز کا پانچواں اوور کیا جس میں ورلڈ الیون صرف چار رنز بنانے میں کامیاب رہی، اوور اختتام پر ٹیم کا مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 44 تک پہنچا۔

چوتھے اوور میں 11 رنز کا اضافہ ہوا جس کے بعد مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 41 تک پہنچا۔

تیسرے اوور میں 16 رنز اضافے کے بعد ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور 30 تک پہنچا۔

پاکستان کی جانب سے اننگز کا دوسرا اوور سہیل خان نے کیا، اوور میں 9 رنز اضافے کے بعد ورلڈ الیون کا مجموعی اسکور بغیر کسی نقصان کے 14 تک پہنچا۔

ورلڈ الیون کی جانب سے اوپننگ کا آغاز تمیم اقبال اور ہاشم آملہ نے کیا، عماد وسیم اور اننگز کے پہلے اوور میں صرف پانچ رن بنے۔

پاکستانی ٹیم کی اننگز

بیسویں اوور میں شعیب ملک نے جارحانہ انداز اپناتے ہوئے گیند کو دو بار باؤنڈری سے باہر پھینکا تاہم آخری بال پر کیچ آوٹ ہوگئے، اوور اختتام پر پاکستان نے 174 رنز اسکور کیے۔

انیسویں اوور کی پہلی بال پر عماد وسیم کیچ آؤٹ ہوئے تاہم نوبال ہونے کی وجہ سے وہ محفوظ رہے تاہم دو گیندیں کھیلنے کے بعد عماد وسیم کیچ ہاتھوں میں تھما کر پویلین روانہ ہوئے، انہوں نے گیارہ گیندوں کا سامنا کر کے 15 رنز اسکور کیے، اگلی ہی بال پر نئے آنے والے کھلاڑی سرفراز بھی بغیر کوئی رن بنائے پویلین لوٹے، اوور اختتام پر مجموعی اسکور پانچ وکٹوں کے نقصان پر 157 تک پہنچا۔

اٹھارویں اوور میں عماد وسیم نے دو چوکے مارے جس کے باعث مجموعی اسکور 151 تک پہنچا۔

سترہواں اوور ورلڈ الیون کی جانب سے سیموئل بدری نے پھینکا، دوسری ہی گیند پر بابر اعظم گیند سمجھنے سے قاصر رہے اور ملر کے ہاتھوں کیچ آؤٹ ہوکر پویلین لوٹے، انہوں نے 38 گیندوں کا سامنا کر کے 45 رنز اسکور کیے، اوور کے اختتام پر سرفراز الیون نے تین وکٹوں کے نقصان پر 138 رنز اسکور کیے۔

سولہویں اوور کی دوسری بال کو شعیب ملک نے باؤنڈری کے باہر پھینک کر 6 رنز حاصل کیے تاہم عمران طاہر کی اگلی ہی گیند پر وہ اسٹمپ ہوتے ہوتے بچے، ایک بال کے بعد شعیب ملک نے گیند کو پھر باؤنڈری کی راہ دکھائی اور اس طرح اوور اختتام پر پاکستان کا مجموعی اسکور دو وکٹوں کے نقصان پر 134 تک پہنچا۔

پندرہ اوور کا کھیل مکمل ہونے پر سرفراز الیون کا مجموعی اسکور دو وکٹ کے نقصان پر 115 تک پہنچا۔

چودہ اوور میں پاکستان کا مجموعی اسکور 115 تک پہنچا۔

ورلڈ الیون کے باؤلر عمران طاہر نے اننگز کے تیرہویں اور اپنے پہلے اوور کی دوسری گیند پر احمد شہزاد کو پویلین کی راہ دکھائی، ڈیوڈ میلر نے اُن کا زبردست کیچ پکڑا، احمد شہزاد نے 34 گیندوں کا سامنا کرتے ہوئے 43 رنز بنائے، اوور اختتام پر مجموعی اسکور 2 وکٹ کے نقصان پر 106 تک پہنچا۔

بارہویں اوور میں میں مجموعی اسکور میں 12 رنز کا اضافہ ہوا، اوور اختتام پر سرفراز الیون نے ایک وکٹ کے نقصان پر 99 رنز بنائے۔

گیارہویں اوور میں ایک چوکے کی مدد سے مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 87 تک پہنچا۔

دسویں اوور میں اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 78 تک پہنچا۔

نویں اوور میں مجموعی اسکور 69 تک پہنچا۔

آٹھویں اوور میں مجموعی اسکور ایک وکٹ کے نقصان پر 55 تک پہنچا۔

ساتویں اوور میں چار رنز کا اضافہ ہوا۔

چھٹے اوور میں میں صرف ایک رن کا اضافہ ہوا۔

پانچویں اوور میں پاکستان کو پہلے نقصان کا سامنا کرنا پڑا جب فخر زمان 21 رنز بنانے کے بعد آؤٹ ہوئے، اوور میں مجموعی اسکور میں 7 رنز کا اضافہ ہوا۔

میچ کے چوتھے اوور میں صرف پانچ رنز کا اضافہ ہوسکا۔

تیسرا اوور

 اس اوور میں بھی چودہ رنز کا اضافہ ہوا، تین شاندار چوکوں کے ساتھ مجموعی اسکور30 ہوگیا۔

دوسرا اوور

دوسرے اوور کے اختتتام پر قومی ٹیم کا اسکور میں 14 رنز کا اضافہ ہوا جس میں فحر زمان کے تین شاندار چوکے بھی شامل ہیں، پاکستان کا مجموعی اسکور 16 ہوگیا۔

پہلا اوور قومی ٹیم کی جانب سے بیٹنگ کا آغاز اوپنر فخر زمان اور احمد شہزاد نے کیا۔ ورلڈ الیون کےمورنی مورکل پہلااوورکرایا، میچ کے پہلے اوور میں پاکستان کا اسکور بغیر کسی نقصان کے دو رنز ہے۔

ٹاس

ٹاس جیتنے کے بعد قومی ٹیم کے کپتان سرفراز احمد نے کہا کہ آج زیادہ رنزبنانے کی کوشش کریں گے ان کا کہنا تھا کہ فہیم اشرف کی جگہ محمد نواز کو جبکہ حسن علی کی جگہ عثمان شنواری کو ٹیم میں شامل کیا گیا ہے۔

اس موقع پر ورلڈ الیون ٹیم کے کپتان فاف ڈوپلیسی نے کہا کہ وکٹ آج بہت اچھی ہے،ٹاس جیتتے تو ہم بھی پہلےبیٹنگ ہی کرتے۔

پاکستان ٹیم 

قومی ٹیم کی قیادت کپتان سرفراز احمد کررہے ہیں، جبکہ دیگر کھلاڑیوں میں فخر زمان، احمد شہزاد، بابراعظم، شعیب ملک، رومان رئیس، عماد وسیم، شاداب خان، سہیل خان، عثمان شنواری، محمد نوازبھی قومی ٹیم میں شامل ہیں۔

ورلڈ الیون : 

ورلڈ الیون ٹیم کے کپتان فاف ڈیوپلیسی تمیم اقبال، ہاشم آملہ ٹم پینی، ڈیوڈ ملر، پاؤل کولن ووڈ، تھریسا پریرا، بین کٹنگ، سیموئیل بدری، مورن مورکل، اور عمران طاہر شامل ہیں۔

پڑھیں: آزادی کپ، پاکستان نے ورلڈ الیون کو شکست دے دی

یاد رہے گزشتہ روز قذافی اسٹیڈیم میں آزادی کپ کا پہلا میچ کھیلا گیا جس میں پاکستانی ٹیم نے عمدہ بیٹنگ کا مظاہرہ کرتے ہوئے ورلڈ الیون کو 20 رنز سے شکست دی تھی، میچ میں عمدہ کارکردگی دکھانے پر بابر اعظم کو مین آف دی میچ کا ایوارڈ دیا گیا تھا۔


اگر آپ کو یہ خبر پسند نہیں آئی تو برائے مہربانی نیچے کمنٹس میں اپنی رائے کا اظہار کریں اور اگر آپ کو یہ مضمون پسند آیا ہے تو اسے اپنی فیس بک وال پر شیئر کریں۔

Print Friendly, PDF & Email

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ حقوق@2017 اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top