site
stats
صحت

کسی بھی ایمرجنسی میں فراہم کی جانے والی بنیادی طبی امداد

کسی بھی ایمرجنسی یا سانحے کی صورت میں قریبی افراد کی جانب سے فراہم کی جانے والی طبی امداد کئی بار زندگی اور موت کے بیچ لکیر ثابت ہوتی ہے اس لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ ایمرجنسی میں طبی عملے کی دستیابی سے پہلے مریض کو کس طرح ابتدائی طبی امداد فراہم کی جائے۔

طبی ایمرجنسیز مختلف قسم کی ہوتی ہیں مثلا دل کا دورہ ، مرگی کا دورہ ، ٹریفک ایکسیڈنٹ ، زیادہ خون کا بہنا ، گلے میں کچھ پھنس جانا وغیرہ اگرچہ ہر ایمرجنسی میں آپ اس کی وجوہات اور ممکنہ نقصانات کے مطابق مریض کی امداد کرتے ہیں پر ان سب میں ابتدائی اور بنیادی امداد مشترک ہے۔

ہر قسم کی ایمرجنسی میں سب سے ابتدائی امداد کو ”اے بی سی ” کہتے ہیں جس کا مقصد مریض کی سانس کی آمدورفت اور دل کی دھڑکن کو برقراررکھنا ہے۔


ابتدائی طبی امداد دیتے ہوئے جان لیوا غلطیاں


 First aid tips

اے (ایئر ویز یا سانس کی راستہ )۔


کیا مریض سانس لے رہا ہے ؟ کیا آپ اسے سن سکتے ہیں ؟ مریض کا منہ کھول کر ممکن بنایئں کہ سانس کے راستے میں کوئی رکاوٹ (قے ، مٹی ، نوالہ وغیرہ ) نہیں ہے ، اگر کسی رکاوٹ کا خدشہ ہو تو انگلی کو موڑ کرحلق میں ڈال کر اس شے کو نکالنے کی کوشش کریں، اگر آپ کے خیال میں مریض کے گلے میں کوئی رکاوٹ اب بھی موجود ہے (مثلا مٹی یا کھانا کھاتے وقت گلے میں کچھ پھنس جانا ) اوراگرآپ مریض کو کروٹ دلوا سکتے ہیں تو کمر پر تھپتھپائیں.

اگر مریض کو کروٹ دلوانا ممکن نہیں ہے تو اس کو سیدھا لیٹا رہنے دیں اور دایئں ہاتھ کی ہیل(ہتھیلی اور کلائی کا جوڑ ) کو مریض کی ناف اور پسلیوں کے بیچ کے مقام پر رکھیں ، دوسرے ہاتھ کو دایئں ہاتھ کے اوپر رکھیں اوراس کو تیزی سے دبایئں (تصویر ١ ) (یہ طریقہ بچوں میں نہ کریں )۔

نیز لیٹے ہوئے مریض کے سر کو تھوڑا سا پیچھے کی طرف جھکا کر رکھیں تا کہ زبان سانس کی آمدورفت کی راہ میں رکاوٹ نہ بنے (تصویر ٢ میں دایئں طرف کی تصویر، بایئں طرف والی غلط پوزیشن ہے )۔

بی (بریتھنگ یا سانس کی آمدورفت )۔


اگر سانس کی نالی میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے تو ممکن بنایئں کہ مریض سانس لے رہا ہے ،اس کے لیے مریض کے سینے کی حرکت اور ناک و منہ کو کم ازکم پانچ سیکنڈ تک دیکھیں و سنیں (تصویر ٣)، ایک بے ہوش شخص سیدھا لیٹا ہوتوبہترسانس لیتا ہے جبکہ اگر مریض ہوش میں ہوتو بیٹھی یا نیم لیٹی حالت میں بہتر سانس لیتا ہے، مریض کے کالراورگریبان کو ڈھیلا کردیں ۔

اگر مریض سانس نہیں لے رہا تو اسے منہ کے ذریے سانس دیں ، اس کے لیے مریض کے منہ کے ساتھ منہ ملایئں تا کہ ہوا کا اخراج باہر نہ ہو (اورہردو سے چار سیکنڈ میں ) اپنی سانس کو مریض کے پھیپھڑوں میں منتقل کریں۔

سی (سرکولیشن یا دورانِ خون کی بحالی )۔


جب مریض کی سانس کی بحالی اور آکسیجن کی پھیپھڑوں کو منتقلی ممکن ہوجائے تو اگلا مرحلہ آکسیجن کو دوران خون کے ذریے سارے بدن میں پھیلانے کا ہے۔

مریض کو سیدھا لٹائیں اور دایئں ہاتھ کی ہیل (کلائی اور ہتھیلی کے بیچ کا حصہ ) کو مریض کی چھاتی پر دونوں نپلز کے درمیان رکھیں ، دوسرے ہاتھ کی ہیل کو دایئں ہاتھ پر رکھیں ، ممکن بنایئں کہ آپ کے دونوں بازو بالکل سیدھے ہوں، مریض کی چھاتی پر بازوؤں اور بدن کا اتنا زور ڈالیں جو چھاتی کو دو سے اڑھائی انچ تک دبا سکے (تصویر ٥)، فی سیکنڈ ڈیڑھ سے دو مرتبہ چھاتی کو دبایئں نیز تیس مرتبہ دبانے کے بعد مریض کو دو مرتبہ منہ کے ذریے مصنوعی سانس دیں۔

اگر آپ کے ساتھ معاون شخص موجود ہے تو سانس کی آمدورفت اور چھاتی کو دبانے (بی اور سی ) کو ساتھ ساتھ برقرار رکھیں (تصویر ٦)۔

اب اورکیا کریں؟


(امریکی ہارٹ ایسوسی ایشن کے مطابق اگر مریض کو ممکنہ طور پر دل کا دورہ پڑا ہے تو ”اے بی سی ” کی بجاے ”سی اے بی ” کی ترتیب زیادہ مناسب ہے )۔

یہ گائیڈلائنز ان مریضوں کے لیے ہیں جو بے ہوش ہیں یا سانس نہیں لے پا رہے. اگر آپ سمجھتے ہیں کہ مریض کی سانس بحال ہے اور وہ ہوش میں ہے تو آپ کو دوسری علامات پر دھیان دینا چاہیے مثلا مریض کے ہاتھ پاؤں ٹھنڈے تو نہیں ہو رہے ؟ کیا اس کی انگلیوں اور ہاتھوں پر نیلاہٹ آ رہی ہے ؟ کیا سانس اور نبض ترتیب میں اور مضبوط ہیں؟ اور اس کے حساب سے اقدامات کریں اور کوشش کریں کہ مریض کوجلد ازجلد پیشہ ورانہ طبی امداد مل سکے۔


نوٹ: یہ تحریر فیس بک پر دل و آرام نامی پروفائل سے شیئر کی گئی تھی جس کی نوک پلک سنوار کریہاں اسے مفادِ عامہ کے جذبے کے تحت شائع کیا جارہا ہے۔ اگر آپ اس تحریر میں کچھ شامل کرنا چاہتے ہیں تو برائے مہربانی نیچے کمنٹ کرکے اپنی رائے کا اظہار کریں۔

Print Friendly
Please follow and like us:

Comments

comments

اس ویب سائیٹ پر موجود تمام تحریری مواد کے جملہ [email protected] اے آروائی نیوز کے نام محفوظ ہیں

To Top