محترم سر محمود شام صاحب
آپ کا آرٹیکل "کیا امریکہ سے اتحاد سے خاتمے کا وقت آ گیا ہے"پڑھا، میں سمجھتا ہوں کہ آپ نے ایک اہم ایشوکی طرف اشارہ کیا ہے کیونکہ اب وقت آ گیا ہے کہ ہمیں
۔امریکہ سے اتحاد کی جزئیات کو نئے سرے سے متعین کرنا ہوگا۔اور اس کے لئے ضروری ہے کہ ہم مندرجہ ذیل باتوں پر غور کریں۔
۔حدود قائم کرنا ہوں گی۔
۔ملکی مفاد ذاتی مفاد سے آگے رکھنا ہوگا۔
دہشت گردی کے خلاف جنگ کو صحیح سمت دینا ہو گی۔
بے گناہ افراد کی ہلاکت میں مشغول نیٹو افواج کو اب روکنا ہو گا۔
اپنی خود مختاری بحال کرنا ہو گی۔
۔امریکہ سے اتحاد عوامی فلاح کے لئے ، اس میں کوئی شک نہیں کہ ہمیں اتحادنئے سرے سے متین کرنے کے ساتھ ساتھ عوامی فلاح کا خیال رکھنا پڑے گا جیسے کہ
صحت کے شعبے میں جامع منصوبوں کے لئے
تجارت کے فروغ کے لئے اتحاد
تعلیم کے شعبے میں ترقی کے لئے اتحاد
دفاع میں اضافہ کے لئے اتحاد
۔امریکہ سے اتحاد موجودہ حالات میں اس لئے ضروری ہے کہ اگر پاکستان کو امریکہ کی ضرورت ہے تو یہ بھی صحیح ہے کہ امریکہ کو ہماری ضرورت ہے کیونکہ میری نظریں دیکھ رہی ہیں کہ روس اور امریکہ کے درمیان پھر سرد جنگ کا آغاز ہو گیا ہے۔ اور دوسری طرف ایران ، چین اور بکھری ہوئی افغانستان کی سلطنت قائم ہے اور امریکہ کبھی بھی بھارت کو طاقتور نہیں بنانا چاہتا۔
۔امریکہ سے اتحاد کے حاتمہ سے قبل مستقبل کا لائحہ عمل/متبادل طاقت
۔چین پاکستان کا بہترین دوست
۔کیا؟امریکہ جتنی امداد دے سکتا ہے۔
۔امریکہ کے خلاف کھڑے ہونے کی صورت میں مشکلات کیا ہو نگی۔
۔قوم کو اس کے لئے تیار کرنا ہو گا۔
۔قوم کی قربانی کے بعد صورتحال ملک کے مفاد میں نہ ہوئی تو قوم کو جواب دینا ہو گا۔
۔امریکہ سے اتحاد کا خاتمہ ابھی نہیں!
۔ابھی اس بات کو بہت وقت لگے گا۔
۔ہمیں خود کو معاشی طور پر مستحکم کرنا ہوگا۔
۔تعلیم کے میدان میں ترقی کرنا ہو گی۔
۔آئین و قانون کی پاسداری کرنا ہو گی۔
۔عدلیہ کو آزاد اور خود مختار بنانا اور ماننا ہو گا۔ |